ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ متکلمین نے مسائل کلامیہ میں جتنے دعوے کئے ہیں ـ ان میں بعض پر جزم نہیں کرنا چاہئے ـ مثلا وہ کہتے ہیں کہ روئیت بے کیف ہوگی بے جہت ہوگی صحابہ کا تو مذہب اس میں یہ تھا کہ کیا خبر کیسی ہوگی واللہ اعلم ان تفصیلات کی وجہ سے بعض متقدمین ان متکلمین کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ کہتے ہیں ـ جیسے بدعتی کے پیچھے مگر میری سمکجھ میں الحمدللہ اس کا فیصلہ آگیا وہ یہ کہ اگر ان تفصیلات کو باطل فرقوں کے دعوں کے مقابلہ میں منع کر درجہ میں رکھا جاوے دعوی نہ کیا جاوے گو بصورت دعوی کے ہوں مگر مقصود دعوی نہ ہو تو بدعت نہیں ـ اور واقعی دعوی خطرناک ہے تو اسی توجیہ کی بناء پر متکلمین کے بے حد معتقد ہوں انہوں نے حق کی بڑی نصرت کی ہے اور یہ نصرت بڑی عبادت ہے ـ
