( ملفوظ 448) مشائخ چشت کی سادگی اور حضرت کا طرز عمل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مصلح اپنے کو اصلاح سے مستغنی و مستثنی نہ سمجھنا چاہیئے اپنی نگرانی بھی کیا کرے غلطی کا احتمال اسکے افعال میں بھی ہے گو طالب کو حق نہیں اس پر اعتراض کرنیکا طالب اعتراض نہ کرے چناچہ الحمدللہ مجھ کو اپنے طرز اصلاح پر ناز نہیں ممکن ہے کہ اس میں کچھ غلطیاں ہوتی ہوں لیکن طالب کو یہی احتمال رکھنا چاہیئے کہ میرا غصہ موقع پر ہوتا ہے ـ گو یقین نہ ہو میری اس صفائی سےکہ نہ اپنی براعت کا دعویٰ نہ طالب کو اعتراض کی اجازت یہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ میں الحمد اللہ متکبر ہوں اور نہ متواضع اور یہ بے تکلفی فیض ہے مشائخ چشتیہ کا ان حضرات میں نہایت سادگی ہے حتی کہ انہوں نے کسی مصلحت سے بھی کبھی ظاہری تصنع گوارا نہیں کیا چناچہ نقشبندیہ حضرات فراماتے ہیں کہ شیخ کو تجمل ( شان ) سے رہنا چاہیئے تاکہ مستفیدین پر ہیبت رہے اور ہیت کے سبب کامل اتباع کریں اور ہمارے حضرات چشتیہ فرماتے ہیں کہ اپنے کو فنا کر دو مٹا دو اگر رعب اور ہیبت نہ ہوگا تو ہم کوئی ٹھیکیدار نہیں اگر محبت ہے تو سب کچھ ہے اتباع کامل بھی ہوگا ورنہ بیکار ـ