ایک صاحب کےسوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کا مقولہ میں نے خود دیکھا ہے فرماتے ہیں کہ جس مصیبت سے توبہ کر لی ہو اور وہ بھی پھر یاد آئے تو یہ کہو کہ یاد آکر لذت آتی ہے یا نفرت اگر لذت آتی ہے تو یہ اسکی علامت ہے کہ توبہ قبول نہیں ہوئی اور اگر نفرت معلوم ہو تو اس کی علامت ہے کہ توبہ قبول ہو چکی ( مگر نظر ثانی کے وقت اچھی طرح یاد کہ یہ مقولہ حضرت سلطان جی کا ہے یا کسی اور کا )
