ارشاد فرمایا کہ رام پور میں ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ کو معراج جسمانی ہوئی تھی یا روحانی ـ میں نے کہا کہ جسمانی کہنے لگے کہ ثبوت میں نے کہا ـ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ الایۃ اور ولقد راٰہ نزلۃ اخریٰ عند سدرۃ المنتھی اور حدیثیں کہنے لگے کیا یہ ممکن ہے کہ جسم انسانی ایسے طبقہ سے عبور کرے جہاں ہوا نہ ہو ـ میں نے کہا کہ ہاں ممکن ہے کہنے لگے کہ ثبوت ـ میں نے کہا کہ امکان نام ہے عدم الوجوب وعدم لامتناع کا جب وجوب و امتناع نہ ہوگا ـ تو امکان ثابت ہو جائے اور چونکہ امکان اصل ہے لہذا جو مدعی امتناع یا وجوب کا ہو دلیل اس کے ذمہ ہے ـ ہم اصل سے متمسک ہیں ـ ہمارے ذمہ دلیل نہیں ـ انہوں نے کہا کہ آج تک کوئی اور بھی گیا ہے ـ میں نے کہا کہ یہ نظیر کا مطالبہ ہے ثبوت کا نہیں ـ اور نظیر کا پیش کرنا مدعی کے ذمہ نہیں ہے علاوہ اس کے وہ بھی ایک واقعہ ہوگا اس کے لئے بھی نظیر کی ضرورت ہوگی ـ پھر اس نظیر ثانی کے لئے بھی نظیر کی ضرورت ہوگی ـ الی غیر النہایہ تو تسلسل لازم آئے گا اور وہ محال ہے اور اگر کسی نظیر کو کہ وہ ایک واقعہ ہے بلا نظیر آپ مان لیں گے تو اسی واقعہ کو بلا نظیر کیوں نہ مان لیجیوے کیونکہ ایک کے بلا نظیر ماننے میں اور ایک کے بلا نظیر نہ ماننے میں ترجیح بلا مرجح ہے ـ انہوں نے کہا کہ صاحب یہ تو بالکل محال ہوتا ہے ـ میں کہا مستعبد ہے محال نہیں اور مستبعد کو وقوع بطور خرق عادت کے ممکن ہے اور استبعاد اور چیز ہے استحالہ اور چیز ہے مگر وہ کسی طرح نہ سمجھے اپنی ہی ہانکتے رہے ـ یہ حکایت اس پر بیان کی تھی کہ آج کل اکثر لوگ جس درجہ کا سوال کرتے ہیں ـ اس درجہ کا فہم نہیں رکھتے ـ اس لئے جواب نہیں سمجھ سکتے اور خطا نکالتے ہیں ـ اہل علم کی کہ جواب نہیں دے سکیں ـ
