ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نری محبت اور عشق سے کام نہیں چلتا جیسے انجن کہ اس میں نری آگ ہونے سے کام نہیں چلتا انجن میں آگ تو رہے مگر یہ بھی شرط ہے کہ اسکو پیچھے کو نہ لیجائے سیدھا آگے کو لے جائے اسی کے لئے صحبت کامل کی ضرورت ہے وہ اس فن کا ماہر ہوتا ہے مشتبہ مواقع میں حقیقت کو جانتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے جس وقت فارس کے سامنے جس وقت فارس کے خزائن پیش کئے گئے تو آپ نے حق تعالی سے عرض کیا آپ کا ارشاد ہے : زین للناس حب الشھوات الخ ۔ تو ان چیزوں کی محبت فطری ہے اے اللہ ہم اس کا ازالہ نہیں چاہتے اور ان کا یہ قول بڑے عارف ہونے کی دلیل ہے کیونکہ جب یہ فطری ہے تو اس کے پیدا کرنے میں مصلحت ہے تو اس کا ازالہ خلاف حکمت ہوگا اس لئے گو وہ محبت رہے مگر اے اللہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ محبت آپ کی محبت میں معین ہو جاوے کتنے بڑے کام کی بات ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اخلاق رذیلہ امور فطریہ ہیں ان کے ازالہ کی ضرورت نہیں امالہ کی ضرورت ہے مثلا بخل ہے تو یہ اپنی ذات میں مذموم نہیں اگر مصرف صحیح میں اس کا استعمال ہو تو محمود بھی ہے مثلا کسی نے زکوٰۃ دینے میں بخل کیا تو یہ مذموم ہے اور اگر معصیت کے لئے کسی نے روپیہ مانگا اور اس کو نہ دیا تو یہ بھی لغتہ بخل ہی ہے مگر محمود ہے کیونکہ غیر مصرف میں صرف نہیں کیا ـ
26 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
