ایک صاحب کے سوال کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک غیر مقلد قاضی صاحب یہاں پر آئے تھے یہاں کی تعلیم پر ذکر بالجہر کیا کرتے تھے کسی نے ان سے کہا کہ یہ تو بدعت ہے کہنے لگے کہ میاں اس میں مزا آتا ہے اس میں بدعت کی کیا بات ہے گویا ان کے یہاں مزہ پر مدار تھا جس میں مزہ ہو وہ بدعت نہیں ہماری جماعت کے بے حد معتقد تھے مگر تھے غیر مقلد ۔
ہر شخص اپنے خیال میں مست ہے کوئی کیفیت کے پیچھے پڑا ہوا ہے اصل مقصود جو کہ طریق کی روح ہے وہ محض تعلق مع اللہ ہے اس کی کسی کو ہوا بھی نہیں لگی الا ماشاء اللہ جو اصل چیز ہے وہ صرف یہ ہے کہ صحیح معنی میں بندہ کا تعلق اللہ تعالی سے ہو جائے مگر اس کی کسی کو فکر نہیں وہی غیر مقلد قاضی صاحب بھی کہتے تھے کہ یہاں جتنی باتیں ہیں سب سنت کے موافق ہیں صرف ایک بات کے متعلق کہا کہ بدعت ہے وہ یہ نسبتیں ہیں چشتی ، قادری ، نقشبندی ، سہروردی بس یہ بدعت ہے اور یہ سمجھ میں نہیں آتا ۔ میں نے سن کر کہا کہ یہ کہنا کوئی ضروری تھوڑا ہی ہے تم صرف یہ کہا کرو ہم شریعت والے ہیں یہ نسبتیں تو اصطلاحات اور خاص حالات کی تعبیر کی سہولت کے لئے ہیں ۔ آخر یہ غیر مقلد بھی تو اپنے کو محمدی کہتے ہیں یہ بھی تو نسبت ہی ہے تو کیا محمدی کہنا بھی بدعت ہے اسی لئے کہ شریعت تو خدا کی ہے تو بجائے محمدی کے اپنے کو الہی کہا کرو اور اگر محمدی کہنا کسی تاویل سے جائز ہے تو حنفی شافعی ، مالکی ، حنبلی ، چشتی ، نقشبندی ، قادری ، سہروردی کہنا بھی جائز ہو گا ۔ گو ان تعبیرات کا معبرعنہ جدا جدا حقائق ہیں مگر وہ حقائق دین کے خلاف نہیں پھر اس میں بدعت کی کیا بات ہے یہ تحقیق نسبت کی اور یہ جواب محمدی کی نظیر پیش کر کے فرمایا ۔
کہ یہ ہمارے استاد علیہ الرحمۃ کا افادہ ہے ۔ ہزاروں مناظرے ایک طرف اور یہ سادے اور بے تکلف نکتے ایک طرف واقعی ہمارے یہ حضرات حقیقت کو منکشف فرما دیتے ہیں ۔ ہمارے حضرات کے علوم ماشاء اللہ تعالی متقدمین کے علوم کے مشابہ تھے اور واقعہ ہے کہ علوم اصل میں متقدمین ہی کے پاس تھے باقی متاخرین کے الفاظ بے شک نہایت چکنی چپڑی عبارتیں نہایت مرتب تقریریں نہایت مہذب مگر متقدمین کے کلام کی برابر ان میں مغز نہیں ۔ قرآن و حدیث کے الفاظ نہایت سادہ اور وہی طرز بزرگوں کے کلام کا ہے مگر ان کی وقعت جو اس وقت قلوب میں کم ہے یہ خرابی نئی اصطلاحات دماغ میں رچ جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے پھر اس میں ترقی ہوتے ہوتے دنیا داروں اور بے علموں تک کا رنگ لے لیا گیا چنانچہ اب وہ طرز ہی کلام کا بدل گیا ۔ علماء تک کی تقریریں دوسرے نئے جاہلانہ رنگ میں ہونے لگیں خدا بھلا کرے ان تحریکات کا کہ بالکل ہی کایا پلٹ ہو گئی علماء کی تقاریر اور تصانیف کا رنگ نیچریوں کے طرز پر ہونے لگا ان کا وعظ ایسا ہونے لگا جیسے کوئی لیکچر دے رہا ہو نہ وہ ملاحت ہے نہ اثر ہے بلکہ اور وحشت معلوم ہوتی ہے علماء کو چاہئے وہ کام میں اپنے بزرگان سلف کا طرز اختیار کریں اس ہی میں برکت ہے اور وہی طرز مؤثر ہے ۔
