ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں کا کام نہیں ـ چندہ جمع کرنے کا یہ کام تو دنیا داروں ہی کے سپرد رہنا چاہئے ـ مولویوں کو مالیات میں پڑنا ہی نہیں چاہئے اس باب میں ان کا مذہب تو یہ ہی ہونا چاہئے ـ
لنگے زیرو لنگے بالا نے غم دزد نے غم کالا
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا قصہ ہے کہ بریلی کے ایک رئیس نے غالبا چھ ہزار روپیہ پیش کیا کہ کسی نیک کام میں لگا دیجئے فرمایا کہ لگانے کے بھی اہل ہو تم ہی خرچ کر دو ـ اس نے عرض کیا کہ میں کیا اہل ہوتا فرمایا میرے پاس اسکی دلیل ہے ـ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالی مجھ کو اہل سمجھتے تو مجھ ہی کو دیتے ـ تبسم فرماتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ اسکا جواب تو یہ تھا کہ حضرت اللہ میاں دے تو رہے ہیں ـ
