ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں کو مالیات سے بچنا چاہئے ـ اس معاملہ میں ان کو پڑنا ہی نہیں چاہئے ـ میں ایک مرتبہ نواب صاحب ڈھاکہ کو مدعو کیا ہوا ڈھاکہ گیا ـ نواب صاحب نے بدون میری تحریک کے مدرسہ دیوبند کے لئے روپیہ دینا چاہا ـ مجھے لیتے ہوئے بھی غیرت آئی لیکن اگر انکار کرتا ہوں تو خواہ مخواہ کا تقوی بگھاڑنا تھا ـ اور ان کی دل شکنی کی بھی خیال تھا اور مدرسہ کا بھی نقصان ـ میں نے کہا کہ میرا سفر ہوگا اور سفر میں اتنی بڑی رقم کا پاس ہونا خطرہ سے خالی نہیں ـ ہر وقت یہ ہی کھٹک رہے گی کہ کہیں گم نہ ہو جائے ـ کوئی نکال نہ لے ـ اسلئے مناسب یہ ہے کہ آپ بیمہ کر کے روانہ کر دیجئے وہ سمجھ گئے کہا کہ بہت اچھا ـ آپ مہتمم صاحب کو رقعہ تو لکھ دیں میں بیمہ کر دوں گا ـ میں نے کہا کہ بہت اچھا ـ میں لکھ دوں گا ـ تو مالیات میں مولویوں کا پڑنا ہی برا ہے ـ
