ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بر ہو بحر ہو حضر ، ہو سفر ہو ، پہاڑ ہوں ، موت کے لئے سب یکساں ہے ـ مگر اس کے نہ علم میں ہے نہ قدرت میں سو بعض لوگ جو زندگی ہی میں اپنے لئے قبر وغیرہ اہتمام کر لیتے ہیں ـ محض لغو ہے کیا خبر کہ کہاں موت واقع ہو اور کس طرح ہو موت کے لئے اس فضول اہتمام کی ضرورت نہیں ـ البتہ بعد الموت کے جو واقعات پیش آویں گے ـ اس کے لئے ہر وقت تیار رہنے اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے ـ اسی طرح بعض لوگ ان رسمی اہتمام کرنے والوں کے مقابلہ میں موت سے اس قدر خائف ہیں کہ اسکا نام لینا تک گوارا نہیں کرتے ـ یہ بھی مہمل بات ہے وہ تو نا گریز ہے ـ شاہی زمانہ میں قلعہ کے ایک دروازہ کا نام خضر دروازہ رکھا گیا تھا جس سے جنازہ گزرتا تھا گو نام سے بھی وحشت تھی ـ اسی ترح ایک ضعیف العمر عورت جس کے نہ منہ میں دانت تھے ـ نہ ماتھے پر آنکھ تھی ، کمر میں خم تھا ، اس کو کسی لڑکی نے کہہ دیا کہ بڑھیا خدا کرے تو مرجا تو اس کی شکایت اپنی ایک ہم عمر بڑھیا سے کی مگر الفاظ یہ تھے کہ فلانی یوں کہتی ہے کہ بڑھیا تو یوں ہو جا ( مراد مرجانا ہے بڑھیا نے موت کا نام نہیں لیا ـ اس قدر وہشت مگر وہ ایسی وہشت کی چیز نہیں کہ مؤمن کیلئے تو عقلا محبوب چیز ہے اس لئے کہ اسکے وقوع کے بعد ہی محبوب تک رسائی ہو سکتی ہے ـ یہ تو مثل پل کے ہے کہ اس پار سے اس پار تک پہچاتا ہے ـ اسی لئے کہا گیا ہے ـ الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب ۔ تو اتنی وحشت محض بے معنی ہے اس وحشت کا جواب ایک دریا کے سفر کرنے والے ملازم نے جواب دیا ـ اس سے کسی نے دریافت کیا کہ تمھارا دادا کہں مرا ، کہا دریا میں پوچھا باپ کہاں مرا ، کہاں دریا میں ، کہا کہ تم پھر بھی دریا سے نہیں ڈرتے ہر وقت دریا میں رہتے ہو اس نے جواب دریافت کیا کہ تمھارا دادا اور باپ کہاں مرے کہا کہ گھر میں کہا کہ بڑے نڈر ہو پھر بھی تم اسی گھر میں رہتے ہو ـ
