( ملفوظ 131 )معافی کا مطلب تعلقات کی بحالی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت کے زمانہ میں مجھ پر عنایت فرماؤں نے بے حد عنایت فرمائی ـ اس کے بعد ان ہی لوگوں کی درخواست معافی کے خطوط بھی بکثرت آئے ہیں میں نے لکھ دیا معافی تو میرے یہاں ارزاں ہے اس لئے میں بھی خطادار ہوں ـ اللہ کا بھی بندوں کا بھی ـ میرا جی بھی اپنی معافی کو چاہتا ہے ـ اس لئے میرے یہاں معافی ارزاں ہے لیکن خصوصی تعلقات بہت گراں ہیں ـ وہ نہ ہوں گے اور تعلقات اور چیز ہیں اور معافی اور چیز معافی کی حقیقت تو یہ ہے کہ صاحب حق انتقام نہ لے نہ دینا میں نہ آخرت میں ـ دنیا میں یہ کہ غیبت کرے نہ بد خواہی کرے نہ اس کے نقصان سے خوش ہو میں یہ کہ اس کی عقوبت پر راضی نہ ہو اور تعلقات اس کے علاوہ دوسری چیز ہے ـ
25 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ