(ملفوظ 173) محبت اور عشق میں علم اور عدم علم کی قید نہیں:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محبت اور عشق کی شان ہی جدا گانہ ہے اس میں رسمی علم اور عدم علم کی قید نہیں مدینہ طیبہ میں ایک ترکی صاحب طریقت تھا ذاکرتھا کسی باطنی مقام پرالجھ گیا اس لئے مزار مبارک پرکھڑا ہوا عرض معروض کیا کرتا تھا مگر کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوئی اسی دوران میں ایک بدوی مزار مبارک پرحاضری ہوا اورنہایت بیبا کا نہ عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ نبی ہیں اور امت پرشفیق ہیں اگر صحیح ہے تو ہمارے یہاں خشک سالی ہے اس کی وجہ سے پریشانی کی حالت ہے بلکل بارش نہیں آپ دعاء فرمائیں اگر بارش ہوگئی تو ایک مشکیزہ گھی کا آپ کی نذر کروں گا یہ گستاخانہ معروض مسجد شریف کے محافظ لوگ سن کرچھڑیاں لے کر مانے کودوڑے وہ بھاگ گیا جب مسجد سے باہر گیا تو وہ گاؤں کے قریب تھا اس نے دیکھا کہ بدلی کا ایک ٹکڑا اس بستی کی طرف چھایا ہوا ہے وہ بارش ہورہی ہے تو کہتا ہے کہ واقعی حضور نبی ہیں اور سچے نبی ہیں اورامت پر شفیق ہیں خود نادار تھا مگر کسی سے قرض لے کر گھی کا ایک مشکیزہ خرید کر پھر مزار شریف پراور ادھر ادھر نطر بچاکر مشکیزہ مزار مبارک پر لگا کر گھی بہا کر بھاگ گیا کیا چیز تھی اس کے قلب کے اندر اللہ اکبر یہ تواس عامی بیعلم کا حال تھا اب اس ترکی کی سنئے جو صاحب طریقت تھا کہ یہ رنگ دیکھ کر شکایت اور ناخوشی ظاہر کرکے یہ کہہ کرچل دیا کہ آپ میں بھی حمیت قومی تھی عربی کا کام ہوگیا اور ترکی کا نہ ہوا ۔