( ملفوظ 141 )مخالف کی بے حسی پر اہل حق کا طریقہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل اور اہل حق کے مذاق طبعی میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے ـ ایک صاحب کانپور سے میرے پاس آئے تھے ـ یہ وہ صاحب تھے جو مجھ کو اور ہماری ساری جماعت ہو گالیاں دیا کرتے ـ کانپور کے بلوہ میں بھی ماخوذ تھے ـ یہ وہ صاحب تھے جو مجھ سے سفارش کرانا چاہتے تھے میں نے سفارش لکھ دی ـ میرے ایک دوست وہاں پر تحقیقات کے لئے مقرر تھے ـ ان کو لکھ دیا کہ واقعہ کی حقیقت کو معلوم کرنے کے بعد جو عقلا و نقلا مصلحت ہو وہ کریں مطلب یہ تھا کہ بدون تحقیق زیادتی نہ ہوـ اس وقت یہ خیال پیش نظر ہو گیا کہ بے بس ہیں ـ بے چارہ ہیں اور ایسے وقت اکثر یہ ہی خیال آ جاتا ہے ـ پس یہ فرق ہے باطل اور اہل حق میں اہل باطل کو تو ایسے موقع پر انتقام کا انتظار رہتا ہے اور اہل حق ڈرتے ہیں کہ یہ وقت انتقام کا نہیں ـ اہل حق قدرت کے وقت تو نرم ہوتے ہیں اور عدم قدرت کے وقت غصہ آتا ہے اور اہل باطل اس کے عکس ہیں ـ