ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل اور اہل حق کے مذاق طبعی میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے ـ ایک صاحب کانپور سے میرے پاس آئے تھے ـ یہ وہ صاحب تھے جو مجھ کو اور ہماری ساری جماعت ہو گالیاں دیا کرتے ـ کانپور کے بلوہ میں بھی ماخوذ تھے ـ یہ وہ صاحب تھے جو مجھ سے سفارش کرانا چاہتے تھے میں نے سفارش لکھ دی ـ میرے ایک دوست وہاں پر تحقیقات کے لئے مقرر تھے ـ ان کو لکھ دیا کہ واقعہ کی حقیقت کو معلوم کرنے کے بعد جو عقلا و نقلا مصلحت ہو وہ کریں مطلب یہ تھا کہ بدون تحقیق زیادتی نہ ہوـ اس وقت یہ خیال پیش نظر ہو گیا کہ بے بس ہیں ـ بے چارہ ہیں اور ایسے وقت اکثر یہ ہی خیال آ جاتا ہے ـ پس یہ فرق ہے باطل اور اہل حق میں اہل باطل کو تو ایسے موقع پر انتقام کا انتظار رہتا ہے اور اہل حق ڈرتے ہیں کہ یہ وقت انتقام کا نہیں ـ اہل حق قدرت کے وقت تو نرم ہوتے ہیں اور عدم قدرت کے وقت غصہ آتا ہے اور اہل باطل اس کے عکس ہیں ـ
