ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جوحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہیں وہ تو میں ہی مگر جومخالف ہیں ان کے قلوب میں بھی حضورکی عظمت ہے اگرکوئی مخالف شخص نبوت کا بھی مصدق تصدیق کرنے ولا ) نہ ہوتو اور کمالات اور عادات واخلاق حضور کے ایسے ہیں کہ ان کا تو انکار ہو ہی نہیںسکتا ۔
فضولیات میں وہ مبتلا ہیں جن کو عاقبت کی فکر نہیں کرنی چاہئے اپنی خیر منانا چاہئے دوسروں کے متعلق نہ اس کو مشورہ کی ضرورت نہ فتوٰی حاصل کرنے کی ضرورت اسکو ایک مثال سے سمجھئے ایک شخص پرپھانسی والے کے پاس جائے کہ مجھ کو بچاؤ اور وہ اس کے ساتھ ہوکہ اس کے بچانے کی فکر میں لگ جائے تولوگ اس کوکیا کہیں گے یہی کہیں گے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑتو ۔
