ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کانپور الہ آباد لکھنؤ میں مخالفین نے میرے متعلق یہ مشہور کر دیا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حجرہ کا پاخانہ بنوا دیا ہے ۔ میں نے سن کر کہا کہ یہ تو صغری ہے اور کبری کیا ہے اور اس کی کیا دلیل ہے کیا اگر کوئی ایسا کرے تو حرام ہے قرآن میں حدیث میں یا حنفی ، شافعی ، حنبلی ، مالکی کے فقہ میں کسی کا یہ قول ہے کہ حجرہ کا پاخانہ بنانا جائز نہ ہے ان لوگوں کے عقائد محض اوہام پرستی پر مبنی ہیں حالانکہ واقع میں یہ روایت ہی غلط اور محض بہتان ہے دین تو لوگوں میں رہا ہی نہ تھا مگر دیانت بھی نہیں رہی البتہ اس کا عکس ضرور ہوا ہے کہ پائخانہ کا ایک حجرہ بنا دیا ۔
