(ملفوظ 399)مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب متعلق حق تلفی :

ایک صاحب نے آجکل کی حالت بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ دغا بازی اورحق تلفی تو عام ہوگئی ہے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس کے متعلق ایک عجیب لطیفہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی مسلمان حق تلفی کبھی کرے تو مسلمان ہی کے ساتھ کرے کافر کے ساتھ نہ کرے تاکہ گھر کی نعمت گھرہی رہے اسلیئے کہ مسلمان کی نیکیاں مسلمان ہی کومل جائیں گی ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک بزرگ تھے انکو ایک شخص گالیاں دیا کرتا تھا وہ بزرگ اسکی مالی امداد روپیہ پیسے سے کرتے تھے اس نے محسن سمجھ کر گالیاں دینی چھوڑ دیں ان بزرگ نے روپے پیسے دینے بند کردیئے اس شخص نے تعجب سے پوچھا حضرت یہ کیا بات ۔ فرمایا کہ بھائی دنیا لینے دینے کی جگہ ہے ۔ تم نے مجھے دینا چھوڑدیا ۔ میں نے تمھیں دینا بند کردیا تم مجھ کو نیکیاں دیتے تھے کہ نماز ورزہ کرو خود اور دیدو مجھے ، میں تمھیں روپیہ پیسے دیدیا کرتا تھا تم دینا شروع کردو ۔ دیکھوپھرہم دیتے ہیں یا نہیں بھائی میں تو تم کو اپنا محسن سمجھتا تھا کہ اپنی نیکیاں مجھ کو دیتے تھے پھر فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ۔
25 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ