( ملفوظ 421) مناسبت معلوم کرنے کا ایک طریقہ از حضرت حاجی صاحب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق میں نفع کا مدار اعظم مناسبت پر ہے ـ میں عدم مناسبت کی وجہ سے طالب سے صاف کہہ دیتا ہوں کہ چونکہ تم میں مجھ میں مناسبت نہیں اس لئے نفع نہ ہوگا کہیں اور تعلق پیدا کر لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ اگر کسی کا نام پوچھوگے تو میں بتلادوں گا خود نہیں بتلاتا کیونکہ بے طلب جس کا نام بتلایا جائے اس کی بے قدری کا اندیشہ ہے ـ اس مناسبت پر ایک حکایت یاد آئی ـ حضرت حاجی صاحب کے سے ایک صاحب علم نے مرید ہونے کے متعلق مشورہ لیا کہ میں چشتی شیخ سے بیعت کروں یا نقشبندی سے آپ نے فرمایا کہ ایک بات بتلاؤں ایک کھیت ہے ـ اس میں جھاڑ جھنکار بہت کھڑے ہیں اور اس میں تخم ریزی کا ارادہ ہے تو تمہاری رائے میں کیا صورت زیادہ مناسب ہے آیا پہلے اس کو صاف کر لیا جائے تب تخم ریزی کی جاوے یا ویسے ہی بدوں صاف کئے تخم ریزی کر دینی چاہئے اور آئستہ آئستہ صاف کرتے رہیں عرض کیا کہ حضرت اول تخم ریزی کر دینی چاہئے تاکہ صفائی کے انتظار تک محروم تو نہ رہے ـ فرمایا کہ تو پھر نقشبندیوں میں جاؤ ـ یہ حضرت کے اعلی مبصر ہونے کی دلیل ہے ـ مثال سے مزاق کو کیسے پہچان لیا ـ
9 ـ صفرالمظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ