ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والے اپنی کوتاہیوں کو نہیں دیکھتے میرے مواخزہ پر نظر کرتے ہیں ـ اور واقعہ کا یہ خلاصہ نکالتے ہیں کہ ذرا سی بات پر خفا ہوگئے ـ یا ہم نے خدمت کی تھی ـ بگڑ گئے ـ کچھ معلوم بھی ہے کہ بدون گرفت اور سختی کے کج فہموں کی اصلاح غیر ممکن ہے ـ دیکھئے جب مربا بنانا ہوتا ہے پہلے اس کو تکلے سے کوچتے ہیں تب اسمیں شیرینی پہنچتی ہے ـ نیز اس کو آگ پر بھی ابالتے ہیں ـ اسی طرح مربی کے فعل کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ مربا بنائے ـ سو یہاں پر جب مربا بننے آتے ہیں تو یہ امور ضرور ہوتے ہیں ـ غرض شیخ تربیت کے لئے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے تعلیم کرتا ہے ـ برتاؤ کرتا ہے ـ نرمی ہو یا سختی ہو مگر یہ معاملہ اسی کے ساتھ کیا جاتا ہے ـ جو اپنے کو سپر کرتا ہے اور محبت کا مدعی بن کر آتا ہے ـ اس لئے کہ حقوق کی بھی قسمیں ہیں ـ ایک حقوق تو عامہ مسلمانوں کے ہیں ـ اور ایک حقوق اس سے آگے ہے ـ جس کا منشا تعلق ہے ـ خصوصیت کا اس کے اور قواعد ہیں ـ حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے ـ حضرت خضر علیہ السلام نے قوانین بتائے ـ ساتھ رہنے کے دیکھئے حضرت موسی علیہ السلام کی کس درجہ کی ہستی مگر خضر علیہ اسلام سے ایک خاص کام لینا چاہتے تھے ـ اس لئے انہوں نے اس اتنفاع کے شرائط بیان کئے اور خصوصیت کے لئے شرائط تو ہوتے ہی ہیں ـ اگر موسی علیہ السلام ان شرائط کو قبول نہ فرماتے تو خضر علیہ السلام ساتھ رکھنے سے یقینا عذر فرمادیتے اس کے بعد جب شرائط میں اختلال ہوا صاف کہہ دیا ھذا فراق بینی وبینک حالانکہ حضرت موسی علیہ السلام کا کوئی فعل معصیت نہ تھا ـ پس خضر علیہ السلام کا عذر کا یہ حاصل تھا کہ ہماری تمہاری موافقت نہ ہوگی ـ اور یہ تفریق ایسی تھی کہ بدون کسی وجہ کے بھی جائز تھی اس لئے افتراق کے لئے معصیت شرط نہیں ـ
