فرمایا کہ ایک بات کہنا چاہتا تھا کہ اس میں سبق ہے مگر بھول بھول جاتا تھا وہ یہ ہے کہ یہاں پرایک محلہ ہے اس میں جولا ہے آباد ہیں اور بچپن میں ہم لوگ بھی اس میں رہ چکے ہیں غریب لوگ ہیں بے چاروں کو ہم سے محبت ہے بچپن کے زمانہ میں ہم ان کے گھروں میں اکثر جاتے تھے وہ محبت اب تک چلی جاتی ہے اس محلہ میں ایک مسجد ہے اس مسجد میں کچھ مرمت کی ضرورت تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کبھی ایسی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ مجھکو اطلاع کردیتے ہیں ۔ میں بقدر گنجائش امداد کردیتا ہوں لہذا اب کی مرتبہ بھی اس مسجد کے مہتمم نے کہ جو وہ بھی جولاہہ ہیں بزریعہ پرچہ اطلاع دی کہ دس (10) روپیہ ضرورت ہے میں نے آٹھ روپیہ بھیجے اوراس پرچہ پریہ بھی لکھ دیا کہ بقیہ کا کوئی اور انتظام کرلو اس نے اس سات روپیہ رکھ لئے اورایک روپیہ واپس کردیا کہ اس وقت سات ہی روپیہ کی ضرورت تھی بقیہ کا انتظام ہوگیا مجھ کو بڑی حیرت ہوئی اس لئے کہ آج کل مدارس اور انجمنوں میں بھی اس کا خیال جواس غریب کو ہوا باوجود اس کے کہ وہاں پرمنتظمین اور مہتمم اہل علم اورعلماء ہوتے ہیں مگر پھربھی ان مدارس اور انجمنوں میں یہ ہوتا ہے کہ جوآگیا سب داخل خزانہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا ، اگر یہ رقم کسی مدرسہ یا انجمن میں جاتی تو قیامت تک بھی واپس نہ ہوتی ۔ اب اس شخص کی اس خوش فہمی سے اس قدر اطمینان ہوگیا کہ کبھی اس طرف سے خلاف واقع کوئی بات نہ کہی جاوے گی اورنہ بلاضرورت رقم لی جائےگی کیسی پیاری بات ہے ایک جاہل بے لکھے پڑھے نے لکھوں پڑھوں کی آنکھیں نیچی کردیں اس لئے کہ یہ باتیں تو آج کل اکثر علماء میں بھی نہیں میرا تو اس بات سے بے حد جی خوش ہوا اگر مسلمان ان باتوں کا خیال رکھیں تو کوئی بھی کا ر خیربند نہ ہو ۔
