ایک صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کا کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ میں دیکھتا ہوں کہ باوجودیکہ بہت سے احباب دل سے محبت کرنے والے ہیں مگر بعض مقام پر میں خود گیا اور آپس کے قصوں جھگڑوں کے متعلق کچھ انتظام کیا کہ آپس میں اتحاد ہے لیکن کوئی اثر نہیں ہوا جب ان کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے تو آنا جانا سب بند ہو جاتا ہے ـ یہ ان کا ذکر ہے جو عاشق کہلاتے ہیں مگر خود ان سے اتنی بھی کامیابی نہیں ہوئی اب بتلاؤ کہ میں کس بوتے پر مسلمانوں کو آگ میں دھکا دے دوں جب ان کی یہ حالت ہے سوائے اس کے کہ خدا سے بہبود اور فلاح کی دعاء کی جائے ـ اسفورا اعتقاد جاتا رہے اور ساتھ چھوڑ دیں ـ غرض موجودہ حالت میں کوئی صورت بھی فلاح کی تدابیر بتلانے کے لئے میں نے حیات المسلمین ایک رسالہ لکھا ہے اس کے لکھنے میں مجھ کو بہت تعجب ہوا ـ پھر اس کے انتخاب اور سہل بنانے میں بھی مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس کی طرف بھی مسلمانوں کو التفات نہیں تجربہ سے معلوم ہوا کہ بعض فتنے وہ ہیں جو رفع ہو ہی نہیں سکتے ـ
9 ـ صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ
