دو شخص تعویذ کے لئے حاضرہوئے حضرت والا ان لوگوں کی صورت دیکھ کر یہ امتیاز ن فرماسکے کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو اس لئے حضرت والا کا معمول یہ ہے کہ اگر مسلمان ہوں تو تعویذ عطا فرماتے ہیں اور ہندوؤں کو احتیاطا فرمایا کرتے ہیں کہ کچے سوت کی چنیچلی لے آؤ گنڈا بنادیا جائےگا اور ا ثر میں کچھ فرق نہیں پڑتا لہذا ان شخصوں سے یہ ہی فرمایا کہ پانی لے آؤ پڑھ دوں گا اور ایک سوت کی چنچیلی لے آؤ گنڈا بنادوں گا جب وہ چلے گئے فرمایا کہ آج کل بڑی آفت ہے ہندو مسلمانوں میں امتیاز نہ رہا ایک سی صورت ایک لباس کس طرح پہچانا جائے داڑھی منڈانے کا ایسا عام رواج ہوگیا ہے کہ جیسا داڑھی رکھنا شعار اسلام تھا ویسا ہی بعض مقامات میں داڑھی منڈانا شعار اسلام ہوگیا ہے اس کے متعلق ایک حکایت یا د آئی سہارنپور میں ایک صاحب تھے جنکی بڑی داڑھی تھی وہ ہندوستان سے شام میں گئے تھے بڑی داڑھی کی وجہ سے بیچارے پکڑے گئے معلوم یہ ہوا کہ وہاں داڑھی رکھنا علامت ہے یہودی ہونے کی اور داڑھی منڈانا یا کٹانا علامت ہے مسلمان ہونے کی جب شام میں یہ حالت ہے تو رات میں نہ معلوم کیا ہوگی اس میں لفظی صنعت ہے مراد رات سے دارالکفر ہے جہاں ظلمت ہی ظلمت ہو پھر فرمایا اب تو یہ حالت ہورہی ہے کہ اس حالت کو دیکھ یہ شعر یا د آتا ہے :
اے بسرا پردہ یثرب بخواب ٭ خیز کہ شد مشرق ومغرب خراب
( اے وہ ذات جو مدینہ منورہ میں استراحت فرمارہے ہیں اٹھئے کہ مشرق ومغرب خراب ہورہے ہیں )
