فرمایا کہ ایک خط آیا لکھا ہے کہ صرف اس نیت سے حاضری کا ارادہ ہے کہ آنحضرت کے فیوض و برکات سے ہم تہی دامن بھی اپنی عاقبت سنوار سکیں جواب یہ دیا گیا کہ جس قدر آنے کے قبل سنوار سکتے ہیں وہ تو سنوار لیجئے پھر آنے کی گفتگو کیجئے ۔ مسلمان کو پریشانی سے بچانا بھی عاقبت سنوارنے کا اول اور ادنی قدم ہے آپ نے اپنا پتہ اردو کا نہ خط میں لکھا نہ لفافہ پر لکھا نہ لفافہ پتہ کا جواب کے لئے رکھا نہ میں انگریزی جانتا ہوں پھر فرمائیے کہ روانگی جواب کے وقت میں پریشان ہو گا یا نہیں سو اول اس کی اصلاح کیجئے پھر آگے لکھتے ہیں کہ میں فلاں خاں بہادر صاحب حاضر خدمت ہونا چاہتے ہیں جواب لکھا گیا کہ اگر ان کا خط آتا تو ان کو جواب دیتا آپ کو ان کے متعلق کچھ لکھنا خلاف اصول ہے ۔
