( ملفوظ 631) مسلمانوں کو رزق کی پریشانی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ رزق کا معاملہ بھی بڑا ہی نازک ہے آج کل مسلمانوں بہت پریشان ہیں خصوص بڑے لوگ زیادہ پریشان ہیں کثرت سے لوگوں کے خطوط آتے ہیں جس میں معاش کی شکایت ہوتی ہے دیکھ کر دل پگھل جاتا ہے اور بڑے آدمیوں کی اور زیادہ مشکل ہے کیونکہ یہ کچھ اور کام بھی نہیں کر سکتے چنانچہ ایک صاحب تھے بغدادی وہ یہاں پر رہے بھی سید تھے کچھ پڑھتے بھی تھے میں ان کی اتنی رعایت کرتا تھا کہ ان کے حجرہ میں جا کر سبق پڑھا دیتا تھا اپنے پاس نہیں بلاتا تھا سیاح بھی تھے اور بوڑھے آدمی تھے یہاں سے حیدر آباد چلے گئے وہاں معاش سے بہت تنگ ہو گئے موسی ندی کے طغیانی کے زمانہ میں مزدوری کرنے پر آمادہ ہو گئے مگر ان کو کوئی مزدوری تک میں بھی نہ لگاتا تھا رنگ سرخ و سفید نورانی چہرہ کوئی مزدور بھی نہ سمجھتا تھا آخر کسی دن مزدوری لگ گئی تو صبح سے شام تک کام کیا مشقت کا تحمل نہ ہو سکا بے ہوش ہو کر گر پڑے مجھ کو سن کر بے حد افسوس ہوا کہ بندہ خدا جیسے یہاں آئے تھے یہاں ہی عمر ختم کر دیتے یہاں تک اس کی نوبت نہ آتی ۔