فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ اس شہر میں تین شخص نومسلم انگریرزی داں وارد ہوئے ہیں اب وہ نماز پڑھانے تک کے لئے تیار ہیں ایسے نومسلم مشتبہ الحال کے پیچھے امام راتب ( جو پہلے سے مقرر ہو ) کے ہوتے ہوئے اقتداء صحیح ہے یا نہیں اختلاف ہو رہا ہے ۔
فرمایا کہ یہ آج کل ایسا عام مرض چلا ہے کہ لوگ نئے آنیوالے کے بہت جلد معتقد ہو جاتے ہیں اور پرانوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس کی بھی تحقیق نہیں کرتے کہ کس خیال کا ہے اور کس عقیدہ کا ہے اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں پر کمیٹی ہو کر اس پر فیصلہ ہو گیا ہے کہ حضرت کو ثالث بنایا جائے جو حضرت والا طے فرما دیں اس پر سب کو عمل کر لینا چاہئے اس پر سب راضی ہیں کوئی خلاف نہیں ۔ جواب میں یہ لکھا گیا کہ اگر میری ثالثی پر راضی ہیں تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ امام راتب ب تک باقاعدہ معزول نہ ہو اس سے افضل کو بھی حق امامت نہیں اور اگر معزول کرنے کی تجویز ہو تو معزول ہونے کے وجوہ اور دوسرے کی تقدیم کی وجوہ لکھ کر استفتاء کیا جاوے ۔
