(ملفوظ 89)متعلم کو سہل تعلم کی درخواست کا حق نہیں :

فرمایا کہ ایک خط آیا تھا اس میں بعض امراض باطنی کو لکھ کرلکھاتھا کہ ان کا کوئی سہل علاج تجویزفرمایا جاوے دیکھئے جس کی درخواست کی گئی ہے کتنی بدنما بات ہے میراایک وعظ ہے التحصیل والتسہیل اس میں مسئلہ کو بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ معلم کے ذمہ کیا چیز ہے آیا طریق تحصیل کی تعلیم اور خود اکثر طرزقرآن وحدیث کا یہی تعلیم تحصیل ہےمثلا فرمایا گیاہے لاتقربو ا الزنا (اور زنا کے پاس مت پھٹکو ۔12) یہ نہیں فرمایا کہ اس پچنے کی سہل تدبیر یہ ہے دوسری جگہ اس کے مقدمات کا انسداد بتلایا گیا ہے یغضوا من ابصارھم ( اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔ 12) یہ خود عمل مشقت کا ہے اس کی تسہیل کا طریق نہیں بتلایا گیاہان کہیں کہیں تبرعا تسہیل کا طریقہ بھی بتلایا گیاہے مگر اس میں اطراد اور عموم نہیں اس غلطی میں بکثرت لوگ مبتلا ہیں کوئی سہل علاج بتلادو ، سوکیا یہ معلم کے ذمہ دار اورنہ متعلم کو اس کے مطالبہ کا حق ہے ہاں شفقت ورحمت کی بنا پر اگر اس کی کوئی اصل ہوتی تو حضورﷺ ہرعمل میں سہولت کی تدبیر بتلا دیتے مگر نہیں بتلائی بہرحال قرآن پاک اورحدیث میں تسہیل کی تدبیر ہرجگہ نہیں بتلائی گئی مگر پھر بھی اکثر لوگ شیوخ سےمطالبہ کرتے ہیں کہ اس سے بچنے کاسہل طریق بتلایئے اس میں کثرت سے لوگوں کو ابتلا ہورہاہے یا بعضے اگر اس کابراہ راست مطالبہ نہیں کرتے مگر وہ بواسطہ اس کے طالب ہوتے ہیں اس طرح سے کہ کیفیات وثمرات کےمتظررہتے ہیں کہ ذوق وشوق ہوتا کہ سہولت سے عمل کا صدور ہوتارہے مگریہ کیفیات بھی کوئی اختیاری چیزیں نہیں بعض اشخاص سے حق تعالیٰ کو ساری عمرمجاہدہ کرانا منظور ہوتا ہے اوروہ جانتے ہیں کہ ثمرات کے بعد یہ عمل چھوڑ دیگا وہاں ثمرہ مرتب نہیں فرماتے اب ایک شبہ اس سہولت کے متعلق اور ہوجاتا ہےکہ اگرشیخ صاحب تصرف ہوتو بڑی سہولت سے کام ہوسکتاہے اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ کا اول تو صاحب تصرف ہونا ہی ضروری نہیں اور یہ کوئی نقص نہیں منافی کمال نہیں اوراگرشیخ صاحب تصرف بھی ہوتویہ کیا ضروری ہے کہ وہ تمہارے لئے تصرف ہی سے کام لے اگر اس کو تم سے کسی مصلحت کے سبب چکی ہی پسوانا مقصود ہوتو تم کیا حق ہے اس کی تجویز میں داخل دینے کا اور اگر اس پر بھی دخل دیا جاوے توشیخ کا ابتاع کہاں ہوا اس صورت میں تو اپنا ہی اتباع ہواایک بزرگ کا حکایت ہے کہ ان کا ایک مرید برسوں سے خانقاہ میں پڑا ہواتھا کرتا کراتا کچھ نہ تھا وہ لوگ آتے کوئی مہینہ میں کوئی دومہینہ میں کوئی چھ مہینے کوسال دوسال میں کام کرکیا اورصاحب اجازت ہوکر چل دیتے مگریہ شخص اسی انتظار میں تھا کہ شیخ ہی خود کچھ تصرف کریں حتی کہ انتظار میں اس کویہ وسوسہ ہونے لگا کہ غالبا شیخ بیچارے تصرف سے کورے ہیں اس خطرہ کی اطلاع شیخ کوہوگئی یہ لوگ بڑے عالی ظرف ہوتے ہیں اس کوپی گئے اتفاق سے ایک روزشیخ نے اس مرید سے فرمایا کہ آج ایک مٹکا پانی سے بھرکر خانقاہ کے دروازہ پر رکھو اورایک پچکاری لاؤ اور ہم کو اطلاع کرو غرض یہ کہ مرید صاحب نے سب انتظام مکمل کرکے شیخ کو اطلاع کی شیخ خانقاہ کے دروازہ پرپچکاری ہاتھ میں لے کربیٹھے خانقاہ کا دروازہ لب سڑک تھا ہندو مسلمان کفار کے سوسوددود سو کے غول خانقاہ کے دروازہ کے سامنے سے گذرتے تھے پچکاری بھربھر کفار کے مجمع پرمارتے جس کافر پر ایک چھینٹ بھی پڑجاتی بیسا ختہ وہی کلمہ شہادت پڑھنے لگتا ایک ہی تاریخ میں شیخ نے ہزاورں کفار کومسلمان بنادیا جب پانی ختم ہوگیا شیخ مسند پرجابیٹھے اور اس مرید کو بلاکرفرمایا کہ دیکھا کہ تمہارا شیخ کیسا صاحب تصرف ہے دیکھا شیخ کا تصرف ایک ہی تاریخ میں ہزارہاکفار کو مسلمان بنادیا کفر سے نکال کراسلام میں داخل کردیا مگر یادرکھو تجھے تو چکی ہی پسواؤ نگا جب ہی کچھ حاصل ہوگا تو شیخ کبھی صاحب تصرف ہوتا ہے مگرکسی مصلحت سے اس کا ظہور نہیں ہوتا مگر اصل بات وہی ہے جومیں کہہ آیا ہوں کہ اگرشیخ صاحب تصرف بھی نہ ہوتو نقص کیا ہے ایسے ہی صاحب کشف ہونا بھی شیخ کا ضروری نہیں ضرورت کی جوچیز ہے وہ فن ہے شیخ کے لئے فن سے واقفیت ضروری چیز ہے باقی یہ سب چیزیں زوائد سے ہیں بلکہ آج کل تواگرکوئی صاحب تصرفات بھی ہو مگر سنت سے ہٹا ہوا ہو اس سے زیادہ بچنے کی ضرورت ہے ۔