ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے سلسلہ میں پہلے بھی صاحب حال گذرے ہیں اور اب بھی ہیں مگر جوحال سنت کی اتباع سے پیدا ہوتا ہے اس کی شان ہی جدا ہوتی ہے ہمارے حضرت مولانا گنگوہی ؒ کے ایک مرید ہیں خورجہ کے رہنے والے ہیں وہ بڑے صاحب حال ہیں ہمیشہ اچھلتے کو دتے رہتے ہیں اپنے حضرت کے عاشق ہیں دیکھ کر یا نام سن کر لوٹنے پوٹنے لگتے ہیں چونکہ متبع سنت ہیں ان کے حال کی یہ شان ہے کہ عین نماز کے وقت بالکل درست ہوجاتے ہیں کبھی نماز میں تڑپنا چیخنا نہیں سنا گیا حتی کہ آہ تک بھی نہیں نکلتی یہ اتباع سنت ہی کی تو برکت ہے ایسے حضرات کی یہ شان ہوتی ہے
برکفے جام شیریعت برکفے سندان عشق ہہوسنا کے ندا ند جام جام وسندان باختن
( ایک ہاتھ میں شریعت کا بلورین پیالہ اور ایک ہاتھ میں عشق کا ہتھوڑا ہے ( کامل دونوں کو بچاتا اور دونوں کو سالم رکھے ہوئے پھرتا ہے ) مگرہرہوسناک توہتھوڑے اورجام کو بجانا نہیں جانتا )
اسی کے نہ سمجھنے سے ایک غیرمبصراور محقق گھبراکر یہ کہہ اٹھا
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمیگوئی کہ دامن ترمکن ہوشیارباش
(دریا کی تہہ میں ہاتھ پیرباندھ کرمجھ کو ڈال دیا ہے اور حکم یہ ہوتا ہے کہ خبردار دامن بھی ترنہ ہونے پاوے )
بات یہ ہے کہ اس بیچارے کو اس کی خبر نہیں مگر جوتیرنا جانتے ہیں وہ کھڑے ہوکر تیرتے ہیں اور دامن بھی بچالے جاتے ہیں اور صاف پار ہوجاتے ہیں اوریہ جامعیت ہم جیسوں کےلئے بے شک مشکل ہے مگر ان کے نزدیک کیا مشکل ہے اور اگر آدمی راستہ چلے تو کچھ آسان ہوجاتا ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تومگو مارا بداں شہ بارنیست باکر یماں کارہا دشوار نیست
( یہ مت کہہ کہ اس شاہ تک ہماری رسائی نہیں ہے کیونکہ کریموں کے واسطے کوئی کام مشکل نہیں ہے وہ اپنے کرم سے جب تم میں طلب دیکھیں گے خود جذب فرمالیں گے )
