(ملفوظ 398) متعدد حکایات متعلق تعویذ :

فرمایا ایک عورت کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں انڑیس پاس کرنا چاہتی ہوں ۔ میں نے امتحان دیا تھا ناکامیاب رہی آپ کوئی تعویذ دیدیں کہ میں کامیاب ہوجاؤں فرمایا کہ ان عورتوں کو کس مصیبت نے مارا یہ ان چیزوں کو حاصل کرکے کیا تیرچلائیں گی سوائے دین برباد کرنے کے اور یہ تو بے چاری عورتیں ہیں اس علم دنیا خصوص انگریزی کی بدولت تو مردوں کا دین بھی برباد ہوگیا ۔ پھر تعویذ کی مناسبت سے فرمایا کہ حضرت سید صاحبہ ہرکام کے لئے ایک ہی تعویذ یعنی یہ لکھ دیا کرتے تھے ،، خداوندااگر منظورداری حاجتش رابرآری ۔ اور اس ہی سے لوگوں کے کام نکل جاتے تھے ۔ حضرت شاہ عبدالقادرصاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص بھنگ بیچنے آیا آکر عرض کیا کہ حضرت دکان نہیں چلتی بھنگ نہیں بکتی ایک تعویذ دیدیجئے آپ نے ایک پرچہ پرکچھ لکھ کردے اور فرمایا کہ جس سونٹے سے بھنگ گھونٹا کرتے ہو اس کو اس میں باندھ دینا خوب بھنگ بکنا شروع ہوگئی ، بعض طالب علموں کو شبہ ہوا کر بھنگ ایک حرام چیز اس کے لئے تعویذ دیدیا یہ تواعانت علی المعصیۃ ہے اتفاق سے وہ شخص اطلاع کرنے حاضرہوا آپ کو اس وسوسہ کا بھی علم ہوگیا اس شخص پینا لکھا ہے وہ تو پیویں ہی گے سواسی کی دکان سے لے لیا کریں ،، تب لوگوں کی آنکھیں کھلیں کہ اس میں اعانت علی المعصیۃ کیا ہوئی ۔
معلوم ہوا کہ ان حجرات پراعتراض کرنا ہی لغو ہے البتہ یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اس شخص کو نہی عن المنکر کیوں نہ کیا ۔ سویہ کیا فرض ہے کہ اسی مجلس میں کیا کریں کسی مناسب موقع پرکردیا ہوگا پھر اس مناسبت سے کہ یہ حضرات متعارف تعویذات کے پابند نہیں ہوتے ان کے معمولی الفاظ میں بھی برکت ہوتی ہے یہ حکایت بیاب فرمائی ۔ کہ ایک مرتبہ حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا نکاح کے لئے ایک جگہ بے حد کوشش کرتا تھا مگر نکاح نہ ہوتا تھا حضرت مولانا سے عرض کیا کہ یہ صورت ہے حضرت نے ایک تعویذ لکھا مضمون اس کا یہ تھا کہ ،، اے اللہ ! میں کچھ نہیں جانتا اور یہ تمہارا بندہ مانتا نہیں یہ تمہارا غلام تم جانو تمہارا کام ،، اس کی برکت سے نکاح ہوگیا حاصل اس کا یہ تھا کہ اس شخص کے معاملہ کوخدا کے سپرد کردیا اس کی برکت سے کام ہوگیا اللہ اکبر!ان حضرات کی باتیں کیسی عجیب وغریب ہوتی ہیں اوریہ سب فضل ہے ۔
پھر فرمایا کہ اس بات پرکہ ان حضرات پراعتراض کرنا حماقت ہے ایک قصہ یاد آیا کہ دہلی میں ایک درویش تھے وہ بیٹھے ہوئے یہ کہ رہے تھے کہ ،، نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ ۔ پھرمیں تیراکہنا کیوں کروں ،، اس پرلوگوں کو غصہ بھڑک رہا تھا اورکفر فتوے دے رہے تھے آخر ایک آدمی ان کو پکڑ کر قاضی کے اجلاس میں لے گئے کہ دیکھئے ! کہ کہہ رہا ہے کہ شرعی حکم اور سزا دیجئے ۔ قاضی صاحب نے درویش سے سوال کیا کہ شاہ صاحب یہ آپ کس کو کہہ رہے ہو؟ درویش ہنسا اورکہا کہ تمام دہلی شہر میں ایک شخص کوتو عقل ہے ورنہ سارے بے وقوف ہی آباد ہیں ۔ میں اپنے نفس سے خطاب کررہا ہوں میرا نفس مجھ سے کوئی چیز طلب کررہا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ میں تیرا کہنا کیوں کروں ۔ توحضرت !اکثر حقیقت سے بے خبری اعتراض کا سبب ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا کہ تعویذ گنڈوں کے بارہ میںلوگوں کے خصوص عوام کے عقائد بہت خراب ہوگئے ہیں چنانچہ عام طور پرایک غلط خیال یہ پھیل رہاہے کہ نفع شرط اجازت کو سمجھتے ہیں خود بعض لوگ مجھ کو لکھتے ہیں کہ اعمال قرآنی آپ کی کتاب ہے آپ اس کی اجازت دیدیں میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھے خود کی عامل کی اجازت نہیں کیا ایسے شخص کا اجازت دینا کافی ہوسکتا ہے اس کاکوئی جواب ہی نہیں آتا ۔
سود سے متعلق اپنی رائے پوچھنے پراظہار افسوس :
ایک سلسلہ مضمون پرفرمایا کہ ایک ڈپٹی کلکڑ یہاں پرآئے تھے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کا سود کے متعلق کیا خیال ہے یہ سوال کا طرز بھی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا ہے آپ کا کیا خیال ہے میں نے کہا کہ میرا کیا خیال ہوتا میں تو مسلمان آدمی ہوں مذہبی آدمی ہوں ۔ اللہ ورسول کا جو حکم ہے وہی خیال ہے وہ یہ ہے کہ حق تعالٰی فرمانے ہیں واحل اللہ البیع وحرم الربوا ( حالانکہ اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے ) کہنے لگے کہ فلاں صاحب ( ایک جاہل ) دہلوی اس آیت کی اور تفسیر کرتے ہیں میں نے کہا اگر اسکی تفسیر معتبر ہے تو وہ قانون جس سے آپ فیصلے کرتے ہیں مجھ کودیجئے میں اسکی شرح لکھوں گا پھر آپ اس شرح کی موافق فیصلے کیا کیجئے جو یقینا فلاں شخص کی شرح کے موافق ہے جولکھا پڑھا ہے اس پرجوجواب آپ گورنمنٹ کی طرف سے ملے گا وہ ہی جواب میری طرف سے ہے اورجن کا آپ نام لے رہے ہیں وہ کیا جانیں کہ تفسیر کسے کہتے ہیں ۔