( ملفوظ 54)متاخرین نے مجاہد ات میں جو چیزیں حدف کردیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ متقدمین نے تو مجاہدات میں چارچیزوں کو فرمایا تھا قلت طعام ، قلت منام ، قلت کلام ، قلت اختلاط مع الانام مگر متاخرین نے دوحذف کردیا ہے ایک تو قلت طعام اور ایک قلت منام کیونکہ یہ دونوں آج کل مضر ہیں پہلے لوگوں کے قوی مضبوط ہوتے تھے ان کے مناسب تھے اور دو کو باقی رکھا ایک قلت الکلام اورایک قلت اختلاط مع الانام اوران ہی دونوں میں لوگوں کو زیادہ بے فکری ہے حالانکہ قلت کلام از حد ضروری ہے اس لئے کہ کثرت کلام کی بدولت کسی کی حکایت کسی کی شکایت کسی کی غیبت ہوجاتی ہے بلکہ مباحات کی کثرت میں کدورت ہوتی ہے عطار اسی کو فرماتے ہیں
دل زپرگفتن بمیرو دربدن گرچہ گفتا ر ش بود درعدن
( بے ضرورت زیادہ بولنے سے بدن کے اندر دل مرجاتا ہے اگرچہ ظاہری طور پر تیری گفتگو کیسی ہی عمدہ ہو 12)
غر ض کم ملوکم بولواور کسی قدرلذات کوکم کردو غلو اس میں بھی نہیں چاہئے ایک درویش نے میرے سامنے خربوزہ کھایا اوریہ کہا کہ آج سترہ برس میں کھایا ہے سویہ غلو بھی برا ہے ضرورت اس کی ہے کہ آدمی حرام سے بچتا رہے باقی اچھی طرح کھائے پئے مجاہدہ یہ نہیں کہ حلال کو چھوڑدے مجاہدہ کی حقیقت ہے خواہشات مذمومہ سے نفس کو روکنا اور حلال چیزوں کے ترک سے اندیشہ ہے عجب کے پیدا ہوجانے کا کیونکہ اس میں ایک شان امتیاز کی ہوتی ہے جیسے ایک شخص نے کہا تھا اپنے پیرکے متعلق کہ وہ کچھ کھاتے ہی نہیں میں نے کہا کہ آخرکچھ توکھاتے ہی ہوں اس لیے کہ اس کے بدوں تو زندگی ہی دشوار ہے ۔
اس پرکہتے ہیں کہ جی ہاں کچھ یوں ہی تھوڑا ساکھالیتے ہیں پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ ایک سیردودھ اورآدھ پاؤ بالائی اور کچھ سیب اور انگور ایک دوست نے کہا کہ اور کھاتے صرف اتنی کسر رہی کہ تجھے اور مجھے نہیں کھایا اور یہ بھی کہاکہ بندہ خدا ! اگرمجھ کو یہ چیزیں ساری عمر کھانے کو ملیں تومیں روٹی وغیرہ کے پاس بھی نہ جاؤں ۔ اب بتلایئے کہ یہ بھی کوئی مجاہدہ ہے بجز شہرت اور جاہ کے صاف دوسرو ں کی نظروں میں بڑا ہونا ہے سویہ خودکتنی بڑی بلاہے یہ غیرمحقق ایسی ہی ٹھوکر یں کھاتے ہیں اور کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچتے اصل چیزعبدیت ہے اور ان باتوں سے عبدیت کے خلاف فرعونیت پیدا ہوتی ہے کہ یہ تو لوگوں کو ذلیل اور حقیر سمجھے اور دوسرے اس کو بزرگ اورولی اور بڑی جانیں اور یہ جوقلت اختلاط مع الانام کی تعلیم فرمائی اس میں بھی ایک حد ہے ورنہ اس سے بھی انسان کی ایک امتیازی شان معصوم ہوتی ہے اورحد کے اندررہ کر یہ خرابی نہیں ہوتی اعتدال کے ساتھ ملنے میں اس کو اوروں سے اور دوسروں کو اس سے نفع پہنچتا رہتا ہے جس کے متعلق ارشاد ہے
طریقت بجز خدمت خلق نیست بہ تسبیح وسجادہ ودلق نیست
( طریقت میں اصل نافع چیز خدمت خلق ہے صرف تسبیح لے لینا اور گڈری پہن لینا طریقت نہیں ہے 12)
شریعت کا یہ کیسا عجیب فیصلہ ہےکسی نے خوب کہا ہے شریعت پر بلکل صادق آتا ہے
زفرق تابقدم ہر کجا می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا ست
(اے محبوب تیرے سرسے پیرتک جہاں بھی نظرکرتا ہوں تیری ہرادا دامن کو کھینچتی ہے کہ بس مجھی کو دیکھے جا۔ 12)
یہ چیزیں کسی کی صحبت میں رہنےاور جوتیاں سیدھیاں کرنے سے نصیب ہوتی ہیں اور بدوں کسی کامل کے اس راہ میں مقصود تک پہنچنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے اور صحبت کامل کے بعد یہ شان ہوجاتی ہے
بینی اندر علوم انبیاء بے کتاب ومعیدواوستا
اور یہ شا ن ہوجاتی ہے
جملہ اوراق وکتب درنارکن سینہ راا نو رحق گلزار کن
(علوم کے اسباب ظاہری ) اوراق وکتب کو فنا کردو اور نورحق سے سینہ کو گلزار بنالو تاکہ علوم وہبی ہم کو عطاہوں ۔ 12)
ایسوں ہی کے پاس جاکر یہ برتاؤ کرو جس کومولانا فرماتے ہیں
قال را بگذر مرد حال شو پیش مردے کاملے پا مال شو
اور اس کے نرم وسرد کا تحمل کرو جس کو مولانا فرماتے ہیں
گربہر زخمے تو پرکینہ شوی پس کجابے صیقل آئینہ شوی
( اگرچہ ہرچیز چرکہ سے تم باراض ہوگے تو بغیررگڑے اورماتجھے تم آئینہ کی طرح صاف شفاف کیسے ہوگے )
اس کے بعد پھر دیکھوگے کہ تمہارے اندر خود ایک چمن ہےجب جی چاہے گا اس کو سیر کرلو گے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اے برادر عقل یک دم باخود آر دمبدم درتو خزاں است وبہار
( اے بھائی اگر تم عقلی سے کام لو ، تو خود تمہاری اندر ہی ہروقت خزاں اور بہار ہوتی ہے ( یعنی مختلف حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں )
اور ایسی صحبت کی برکت اپنی کھلی آنکھوں دیکھوں گے اور بزبان حال وہی کہوں گے جو سعدی نے کہا ہے
جمال ہمنشیں درمن اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
(ہمنشیں کے جمال نے مجھ میں یہ اثر پیدا کیاہے ورنہ میں وہی خاک ہوں جو پہلے تھی ۔ 12)
غرض صحبت اوراطاعت ہی وہ چیز ہے کہ جب باد صرصر چلتی ہے تو کنکریاں پتھریاں گندم میں جا پڑتی ہیں پھر وہ اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے گندم ہی کے نرخ پر بکتی ہیں بھلا الگ تو کوئی ان کا خرید اربن کردکھلاوے کو ئی پھوٹی کوڑی کو بھی نہ خریدا گا یہ ایک نہایت مفید اور کا ر آمد نسخہ میں نے تم کو بتایا اس کو استعمال کرو اور اس کے فوائد دیکھو ۔
6/ربیع الاول 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح ہوم سہ شنبہ