(ملفوظ 338)متمرد کے نکالنے پرمعزورہونا :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ لوگ سیدھی اور سہل بات کوکس قدر الجھا دیتے اورسخت بنادیتے ہیں گفتگو کے ختم تک یہ بھی تو فیق نہ ہوئی کہ یہ کہہ دیتے کہ مجھ کو اس کا علم نہ تھا کہ یہ مصافحہ کا موقع ہے یا نہیں باقی غلطی کا تو اقرار کیا کرتے خناس دماغوں میں گھسا ہوا ہے میں اسی کو نکالنا چاہتا ہوں جس شخص می اتنا تمرد ہو اس کی اصلاح کی امید کیا کی جائے یہ بھی حس نہ ہوئی کہ دوسرے پراس کا کیا اثر ہوگا بتلایئے ایسے متمرد کے نکالنے پربھی میں معذور ہوں یا نہیں یہ اچھا ہوا کہ میں نے بواسطہ گفتگو کی جس سے مزاج میں کوئی تغیر نہیں ہو اور نہ الزام دیتے کہ مجھ پرسختی کی اس لئے گڑبڑ میں پڑگیا مگر اب توکوئی شبہ ہی نہیں رہا اورنہ کسی تاویل کی گنجائش رہی کیا ٹھکانا ہے اس بدفہمی کا خیر ہمیشہ کو گئے مگر اب پیچھا چھٹا اس لئے کہ بہت باگواری کے ساتھ فیصلہ ہوا اگر میں براہ راست گفتگو کرتا یا تیزی سے کچھ کہتا تو یہ احتما ل ہوسکتا تھا کہ مغلوب ہوکر ایسا خبط ہوگیا اس میں شبہ کی گنجائش رہ سکتی تھی اوراب تو کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ، بیچارے بہت سی پریشانیوں سے بچ گئے دیکھئے میں اس قدر کنج وکاونہ کروں تو یہ قلعی ان کی کس طرح کھلے اوریہ چورکس طرح پکڑے جائیں مادہ تو تھا ہی کسی اور کو نکلتا اس مادہ کی ایسی مثال ہے کہ کسی حوض کی تہیہ میں کیچڑ اور گارا ہے اگرزور سے ڈھیلا مارا جائے تو سب پانی گدلا ہوجاتا ہے بات یہ ہے کہ واقع میں خلوص نہیں ہوتا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسا مدینہ شریف میں رہ کرمیل کچیک والا نہیں رہ سکتا آخر میں کہاں تک رعایت اور سامح کروں اگر ایسا برتاؤ نہ کروں تو پتہ چلے مخلص اور غیر مخلص کا دیکھئے ادنی ادنیٰ صنعتون کو لوگ نہیں سکھاتے جب تک طلب اورخلوص پراطمینان نہیں ہوجاتا اسی طرح جب تک ثبات ورسوخ محقق نہ ہوجائے اس وقت تک بیعت کرنا اور ہونا چاہئے ہی نہیں اور اسی طرح جب تک خلوص پراطمینان نہ ہوجائے اس وقت تک ہدیہ لینا بھی نہیں چاہے میرے یہاں بہت سے تجربون کے بعد اصول اور قواعد مرتب ہوئے ہیں جن پرلوگ خفا ہیں ۔