( ملفوظ 540)نا بالغ کا ایصال ثواب معتبر ہے

مولوی محمد صاحب متوطن بنگال نے پوچھا کہ نا بالغ کچھ پڑھ کر کسی کو بخش سکتا ہے یا نہیں فرمایا کہ ہاں بخش سکتا ہے ـ اس پر انہوں نے شبہ کیا کہ نا بالغ کا تبرع جائز نہیں ـ اس پر حضرت نے ارشاد فرمایا کہ وہ حکم مخصوص مال کے ساتھ ہے خواہ مال حقیقی ہو یا مال حکمی ہو اور ثواب مال نہیں جو اس کا تصرف غیر معتبر ٹھرایا جاوے دوسرے اس سے قطع نظر تصرف تین قسم کے ہیں ـ ایک نافع محض دوسرے ضار ( مضر ) محض تیسرے وجہ ضار من وجہ نافع ( یعنی ایک طرح نافع اور ایک طرح مضر ) سو نافع محض تو بدون ولی کی اجازت کے بھی معتبر ہیں اور ضار محض ولی کی اجازت سے بھی معتبر نہیں اور جو من وجہ ضار اور من وجہ نافع ہیں ـ وہ ولی کی اجازت سے معتبر ہو سکتے ہیں اور ایصال ثواب نافع محض ہے کیونکہ نا بالغ کا اس میں ذرا بھی ضرر نہیں ـ بلکہ اس کو ثواب ملے گا ـ
اس لئے اس کے درست ہونے میں شبہ نہیں ـ