(ملفوظ 182 )نہ ڈھیلا بنے نہ ڈھیلا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جس نام اخلاق ہے اچھی خاصی دکانداری ہے مجھ کو ایسے اخلاق متعارفہ سے نفرت ہے اسی لئے بدنام بھی ہوں مثلا یہ تعویز گنڈوں ہی کا سلسلہ ہے اگر ان لوگوں کے ساتھ ڈھیلا پن برتا جاتا تو اچھا خاصہ میلا لگ جاتا پھر کوئی کام بھی نہ ہو سکتا مزاحا فرمایا کہ سب کام میلا ہوجاتا اور خصوص عورتوں کا تو ہر وقت ہجوم رہتا اور عورتوں یا لڑکوں کا ہجوم فتنہ ہے اس میں بڑے بڑے مفسدے ہیں میری تو اس باب میں یہ رائے ہے کہ ایسے اسباب اختیار کرے کہ نہ ڈھیلا بنے بیائے مجہول اور نہ ڈھیلا بنے بیائے معروف ـ