ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آخرت کا شوق عادۃ بدون دنیا کی نفرت کے نہیں ہو سکتا اور دنیا سے نفرت بدون ناگور حوادث کے نہیں ہوتی ـ یہ حق تعالی کی رحمت ہے کہ ایسے اسباب پیدا فرمادیتے ہیں ـ کہ آدمی کو خود بخود دنیا سے نفرت ہوجاتی ہے ـ اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ یہ تحریک حاضر جس میں مجھ کو برا بھلا کہا گیا ـ میرے نقصان کا سبب نہیں ہوئی بلکہ نفع کا سبب ہوئی چہار طرف سے نظر ہٹ کر ایک ہی طرف ہوگئی ـ اس ہی میں ان لوگوں کو اپنا محسن سمجھتا ہوں ـ جنہوں نے مجھ پر سب و شتم کیا یہ دولت ان ہی کی بدولت نصیب ہوئی ـ یہی وجہ ہے کہ میں سب کو دل سے معاف کر چکا ـ کنکریوں کے بدلے مجھ کو جوہرات عطا فرمائے گئے ـ حق تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ مجھ جیسے نا کارہ کوتاہ عمل پر اپنا فضل فرمایا ـ
26 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
