ایک صاحب کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں تو خادم ہوں اگر کوئی ڈھنگ سے خدمت لینا چاہئے مجھے خدمت سے عزر نہیں لائق مخدوم کا خادم بن سکتا ہوں نالائق مخدوم کا خادم نہیں بن سکتا مخدوم کا خادم ہوں مجزوم کا نہیں اگر کوئی مجھ سے سلیقہ سے خدمت لے انشاءاللہ تعالٰی مجھ کو وفادار کا کارگزار خادم پائیگا اور اگر کوئی بے طریقہ بد سلیقہ بے اصول ہو تو اسکی ایسی تیسی کہ وہ خدمت لے سکے یہ میرے کہنے کی تو بات نہیں مگر دیکھنے والے بتا سکتے ہیں کہ کیا کسی وقت مجھ کو فرصت ہوتی ہے ہر وقت کام میں لگا رہتا ہوں تو جو شخص اسقدر خدمت میں مشغول ہو گیا وہ خدمت سے گھبرائے گا پھر اس خدمت کا نفع عاجل تو دوسرے ہی کو پہنچتا ہے باقی مجھ کو اگر کچھ اجر ملتا ہے تو وہ نفع آجل ہے مگر محتمل ہے نہ معلوم مقبول بھی ہے یا نہیں بہر حال اسکا نفع یقینی اور میرا محتمل غرض میرا خادم ہونا ظاہر ہے مگر جب کوئی ستائے میں اسکا خادم نہیں بن سکتا اصول صحیحہ کا تابع ہو کر تو خدمت آسان بے اصول خدمت مشکل ہے کس کس کی ایسی خدمت کرے اور کس کس کو کوش رکھے یہ ہیں وہ باتیں جنکی بناء پر مجھ کوبدنام کیا جاتا ہے ـ
