( ملفوظ 46)نفع کا دار ومدار مناسبت پرہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ یہاں پر رہ کر جب بصیرت بڑھ جائے اور پھر وطن واپس پہنچ کر مکاتبت کرے تو طویل مکاتبت سے مناسبت پیدا ہوجاتی ہے جومدارہے نفع کا مگر یہاں پر جورہے خاموش ہرے مکاتبت مخاطبت نہ رکھے تجربہ سے یہ طرزبہت ہی مفید
ثابت ہو ا ہے لوگ اول وہلہ میں اس کی قدر نہیں کرتے مگریہاں سے وطن واپس جاکر بہت لوگ لکھتے ہیں کہ پہلے تو سمجھ میں نہیں آیا تھا مگر چند روز خاموش رہنے سے جو نفع ہوا وہ نفع چند برس ک مجاہدہ سے بھی
نہ ہوتا یہ سب تجربہ کی باتیں ہیں حق تعالی دل میں وہی چیزیں ڈال دیتے ہیں جو
مفید ہیں بدفہم لوگ اس کو میری طرف ٹالنا سمجھتے ہیں لیکن اگر میں ٹالتا تو رہنے کی اجازت ہی کیو﷽ں دیتا کیا میرے ذمہ کسی کا کچھ قرض آتا ہے مگر رسوم کا غلبہ ہورہا ہے دماغوں میں وہی رسمی باتیں رچی ہوئی ہیں کہ مجلس آرائیاں ہوں قیل وقال ہوتعظیم وتکریم اور مجھ کو ان باتوں سے طبعی نفرت ہے میں چاہتا ہوں کہ نہ میری آزادی میں تم مخل ہو اور نہ تمہاری آزادی میں مخل ہوں کام میں لگو وقت کو بیکار نہ جانےدو ۔
5/ربیع الاول 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ