ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نفس بھی بڑا ہی شریرہے اور جبکہ غرض بھی شامل ہوتو پھر تو سونے پرسہاگہ کاکام کرتا ہے کاند ہلہ کے قریب ایک گاؤں ہے اس میں ایک سنی عورت کا انتقال ہوا بڑی مالدار عورت تھی خاوند شیعی تھا تو اس عورت کےبھائی نےیہ چاہا کہ سب ترکہ مجھ کو ملے اس کے خاوند کو کچھ نہ ملے تواس کی یہ تدبیر سوچی کہ مجھ کوایک استفتاء لکھ کردیا اورحکم شرعی اس طرح پوچھا کہ سنی عورت کا شیعی مرد سے نکاح توجائزنہیں جب نکاح نہیں ہوا تو اس عورت کی میراث بھی اس مرد کو نہ ملے گی میں نے کہا کہ کیا یہ مسئلہ آج معلوم ہوا پہلے سے کہاں سورہے تھے جب بہن نے نکاح کیا تھا اس وقت نہ بولے اور ساری عمر بہن کے لئے حرام کوگوارا کرتےرہے شرم نہیں آتی دنیا کی غرض سے تویہ بات نکالی اور دین کا کچھ خیال نہ کیا یہ نفس ایسا استاد ہے دوسری بات میں نے یہ کہی کہ اگر اسی واقعہ میں مرد مالدار ہوتا اور پہلے مرجاتا اور تم کو یہ امید ہوتی کہ پھر عورت کےمرنے پرمیں مستحق ہوں گا تو ایمان سے کہو کیا اس وقت بھی اس نکاح کوناجائز قراردے کرعورت کو میراث سے محروم کرتے جس کا نتیجہ تمہارا حرماں ہوتا بس یہ ہیں وہ باتیں جن کیوجہ سے لوگ مجھ سے ناراض ہیں مگر ہوا کریں ناراض ، مجھ کو ان کی ناراضی یا خوشی سےلینا ہی کیا ہے اللہ تعالی ٰ راضی رہیں پھرچاہے سارا عالم ناخوش اورناراض رہے بحمداللہ اس کا مجھ پرکچھ اثر نہیں مجھے کتمان حق نہیں ہوتا نہ کسی کی للو پتو ہوتی ہے میں توایک سیدھا سادھا مسلمان ہوں صاف اور سچی بات کہنا جانتا ہوں اپنے بزرگوں کا یہ ہی طرز دیکھا یہ ہی پسند ہے ۔
