(ملفوظ 174)نری عقل طریقت میں راہزن ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عشاق سے عرفی عقل کو سو دور بھاگتی ہے نری عقل اس راہ میں راہزن ہے جب تک محبت نہ ہو نری عقل سے کیا کام چلتا ہے یہاں تو دیوانہ ہوکر چلنے کی ضرورت ہے اور اس دیوانہ کی یہ شان ہوتی ہے فرماتے ہیں
باز دیوانہ من اے طبیب باز سودائی شدم من اے حبیب
( سب کچھ دیکھنے کے بعد اے طبیب میں پھر دیوانہ ہوگیا ،اور اے محبوب میں پھر تیرا ہی سودائی ہوگیا ہوں )
اس عقل کو تو شریعت کے تابع رکھنا چاہئے جب تک شریعت کے تابع ہے خیر ہے ورنہ یہی وبال جان ہے ایسی ہی عقل کے متعلق فرماتے ہیں
از مودم دور اندیش را، بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
( میں عقل دوراندیش کو آزمانے کے بعد دیوانہ بنا ہوں ۔12)
14/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہارم شنبہ