ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب تک کسی فن میں مہارت نہ ہو – نرمی کتابیں کام نہیں دے سکتیں ـ مثلا نرمی کتاب دیکھ کر مسہل نہیں لے سکتا ـ سو نرمی کتاب دیکھ کر مسئلہ کیسے معلوم کر سکتے ہے ـ اس لئے ضرورت ہے کہ پہلے استاد س فن کو حاصل کرے ـ بڑھئی کا فن ان علوم کے سامنے کوئی مشکل چیز نہیں مگر بدون سیکھے ہوئے ـ بسولہ بھی ہاتھ میں نہیں لے سکتا ـ اگر لے گا اپنے ہی مارے گا ـ تلوار ہے یوں ہی تھوڑا ہی کاٹ دیتی ہے ـ استاد کی نرمی کتاب سے کام لینے کے متعلق واقعہ سن لیجئے ایک شخص یہاں پر آئے تھے ـ میرے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی ـ دو رکعت پر سلام پھیر دیا ـ میں نے پوچھا تو کہتے ہیں کہ مسافر کے واسطے قصر ہے – یہ بھی بیچاروں کو خبر نہ تھی کہ مقیم امام کے پیچھے نماز پوری پڑھنی چاہیئے ـ ایک میرے دور کے عزیز ہیں ـ بوڑھے ہوگئے ہیں چار سنتوں میں ہمیشہ دو رکعت بھری پڑھی اور دو خالی پڑھتے ہیں بتلانے پر کہا کہ مجھ کو معلوم نہ تھا اسی طرح ایک شخص نے مغرب کی نماز دو رکعت پڑھی اس لئے کہ مسافر تھے ـ
26 ذی الحجہ 1350 ھ بوقت صبح یوم سہ شنبہ
