فرمایا ایک شبہ ظاہری یہ ہوتا ہے کہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے صاحبزادے کے انتقال پر روئے ـ اور بعض اولیاء اللہ کی حکایت ہے کہ وقت مصیبت کے انہوں نے الحمد اللہ کہا اور ظاہرا الحمد اللہ کہنے والے کا مرتبہ رونے والے سے زائد معلوم ہوتا ہے حالانکہ انبیاء کے مرتبے کو کوئی نہیں پا سکتا جواب اس شبہ کا یہ کہ حق فرزند یہ ہے کہ ایسے وقت اس پر روئے حق خالق یہ ہے کہ امر الہی پر صبر کرے ـ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو جمع فرمایا حق فرزند بھی حق خالق بھی اور دونوں کو ادا فرمایا اور وہ بعض اولیاء اللہ مرتبے میں کم ہیں کہ ایک حق ان سے ادا ہوا اور دوسرا نہ ہوا اسی طرح حدیث میں ہے کہ قیامت میں بعض انبیاء بعض اولیاء اللہ پر رشک کریں گے ظاہرا اس پر بھی شبہ ہوتا ہے کہ افضل کو مفضول پر غبط کیوں ہوگا بات یہ ہے کہ غبط کئی قسم کا ہوتا ہے کبھی تو کمال کے فقدان سے سو یہ تو نہ ہوگا اور کبھی یہ سبب ایک کئی قسم کی عافیت کے مثلا کوئی بڑے عہدے پر ہو اور ذمہ داریوں کی کثرت سے یہ کہے کہ پانچ روپیہ والے مجھ سے اچھے کہ آرم سے تو ہیں اس قدر بار حساب کا تو ان پر نہیں حضرات انبیاء علیہم السلام کا رشک کرنا اسی طرح پر ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا بڑا مرتبہ ہے امت کی فکر میں مشغول ہوں گے اور بعض اولیاء اللہ ایسی مشغولی سے آزاد ہوں گے پس اس غبط کا یہ محل ہے ـ
