( ملفوظ 348)امراء کی طرف رغبت ٹھیک نہیں گو نیت صحیح ہو ـ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل درویشوں کی دو قسمیں ہیں ایک محق ایک مبطل پھر محق کی دو قسمیں ہیں ایک محقق ایک غیر محقق باستثناء محققین کے کہتا ہوں کہ آج محقق بھی اسکی کوشش کرتے ہیں کہ امراء سے تعلق ہو باوجودیکہ وہ ال حق ہیں دکاندار نہیں مگر پھر بھی اسکی کوشش کرتے ہیں کہ امراء سے تعلق ہو گو انکی نیت بری نہیں مگر پھر بھی اس مذاق کا ضروری زیادہ ہے اس لئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس سے بہت سختی کے ساتھ نفرت رکھتے تھے لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان لوگوں سے تعلق رکھنے میں گو حب دنیا بھی نہ ہو تب بھی بڑا مفسدہ ہے جسکا بکثرت مشاہدہ ہو رہا ہے اور کہ ایسی بات ہے کہ بجز اہل بصیرت کے اسکو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ایک صاحب کے سوال پر کہ اگر کسی جائز مصلحت کے لئے تعلق رکھا جاوے تو کیا حرج ہے فرمایا کہ ہر جائز چیز سے بھی تو طبائع سلیمہ کو رغبت نہیں ہوتی مثلا اوجھڑی کا کھانا جائز ہے مگر لطیف المزاج کو اس سے طبعی نفرت ہے اکثر مدرسہ والے بھی ان ہی خیالات میں مبتلا ہیں گو ان کے مقاصد اور نیت بری نہیں مگر اسکا انجام دیکھ کر مجھکو تو طبعی نفرت ہے اس طریقہ کار سے ـ