فرمایا کہ ایک بی بی کا خط آیا ہے کہ پہلے بھی انکا خط آیا تھا بیعت ہونے کو لکھا تھا مگر اس خط میں شوہر کی اجازت اور دستخط نہ تھے میں نے لکھا تھا کہ تمہارے اس خط میں نہ تمہارے شوہر کی اجازت ہے اور نہ دستخط ہیں اس لئے تمہارا یہ خط بھیجنا بیعت کے لئے بے اصول ہے ۔ آج کے خط میں ان کے شوہر کے دستخط ہیں اور لکھا ہے کہ میں بھی آپ ہی سی بیعت ہوں ان بی بی کو بیعت فرما لیجئے گا ۔ فرمایا کہ اب بتلائیے کہ میں نے ایسی کون سی سخت شرط لگائی تھی ۔ جس کو وہ پورا نہ کر سکتیں ۔ اس شرط میں یہ مصلحت ہوتی ہے کہ آئندہ جس کو جی چاہے خط لکھنا نہ شروع کر دیں اس سے ان کو یہ معلوم ہو گیا کہ جب پیر ہی کو بلا شوہر کی اجازت کے خط نہیں لکھ سکتی تو اور کسی کو لکھنا تو کب جائز ہو سکتا ہے اس میں دین کی حفاظت مقصود تھی نیز شوہر بھی خوش ہو گیا ہو گا کہ بیوی بڑی ہی فرمانبردار ہے بلا اجازت کچھ نہیں کرتی اصول کے تابع جو کام ہوتا ہے اس میں بڑی ہی مصلحت اور حکمت ہوتی ہے ۔
