فرمایا کہ ایک بی بی کا پہلے خط آیا تھا اس ان کی شوہر کے دستخط نہ تھے اس لئے واپس کردیا گیا پھر دستخط ہوکر آئے تو پتہ نا محرم سے لکھوایا ان نا محرم کے خط کو میں پہچانتا تھا اور ان کا رشتہ بھی ان بی بی سے مجھ کو معلوم تھا میں میں نے تنبیہ کی تو پھر بیٹے کے ہاتھ سے پتہ لکھوایا اس تنبیہ سے ان بی بی نے بھی ملتوی کیا بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ آنے کا قصد کررہی ہیں دوران تحریرمیں ان بی بی نے یہ بھی لکھا تھا کہ زیارت جوش محبت میں ایسا قصد کیا تھا حضرت والا نے اس لفظ پر بھی تنبیہ فرمائی کہ یہ لفظ بازاری ہے بجائے محبت کے تمنا کا لفظ عورت کو ایسے موقع پراستعمال کرنا چاہئے جو ایک متین لفظ ہے ایسا لفظ مرد مرد کو کہے تو مضائقہ نہیں جامع عرض کرتا ہے کہ سبحان اللہ کیسے کیسے دقائق پرنظر ہے اور کس قدر لطیف اورمؤثر طرز تربیت ہے ۔
