(ملفوظ 401)عورتوں کے لئے بلا وجہ سفرکا حکم

عورتوں کے پردہ کے متعلق ذکر تھا کہ بے حد بے احتیاطیاں ہورہی ہیں ۔ فرمایا کہ والد صاحب مرحوم کا قصہ ہے وہ اسکے سخت مخالف تھے کہ عورتوں کو ریل میں سفر کرایا جائے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ پردہ کی احتیاط ریل کے سفر میں رہ نہیں سکتی اسلیئے اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ والدہ صاحبہ کو کانپور لے گئے یہاں سے کانپور تک بیل گاڑی میں سفرکیا البتہ حج کے سفر میں مجبور تھے ۔ پھر فرمایا کہ میں عورتوں کے سفر کو بلا ضرورت اچھا نہیں سمجھتا حتی کہ بیعت کے لئے بھی سفر کرنے کو منع کرتا ہون ۔ ایک بی بی سفر کرکے بیعت کے لیے آئی تھیں میں ان پربہت ناراض ہوا کہ محض بیعت لے لئے سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور میں نے انکوبیعت نہیں کیا ۔ بلا بیعت کیے ہوئے واپس کیا ۔ اس میں مصلحت تھی کہ یہ اوروں سے جاکر کہیں گی اس لئے اورعورتیں بھی ہمت نہ کریں گی ۔
ایک قصبہ ہے یہاں سے قریب وہاں سے ایک مجمع عورتوں کا چھکڑا پھرا ہوا آیا دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سب بیعت کے ارادہ سے آئی ہیں ۔ میں نے ان کو ڈانٹا اور بیعت نہیں کیا ۔ اور یہ کہا کہ یہ غرض توخط کے ذریعے سے بھی پوری ہوسکتی تھی پھر بلا ضرورت سفر کیوں کیا انکونا گوار بھی ہوا آپس میں ذکر کیا کہ یہ مولوی اچھا نہیں گنگوہ والا مولوی بہت اچھا تھا ترت (یعنی برا ہونے پرتو میں بھی متفق ہوں مگر بیعت نہ کروں گا۔