ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک دوست حکیم صاحب نے لکھا تھا کہ میں نے تمہارے لئے چالیس روپیہ گز کا کپڑا منگایا ہے میں نے ایک لطیف عذر کے ساتھ نامنظور کردیا وہ عذر یہ لکھا کہ میرا جو فرض منصبی ہے یعنی تعلیم دین اس کا تعلق زیادہ تر مساکین سے ہے سو مجھ کو ایسی وضع سے رہنا چاہئے جس سے مساکین مرعوب نہ ہوں تاکہ بے تکلف استفادہ کرسکیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ معمولی حالت میں رہوں اور آپ حکیم ہیں جن کے لئے ظاہری شان وشوکت مناسب ہے کیونکہ ان کا تعلق اکثر امراء سے ہے اس لئے چالیس روپیہ گزکا کپڑا بہننا آپ کے لئے مناسب ہے اس کے بعد فرمایا کہ خواہ مخواہ لوگوں کو بیٹھے بٹھائے ایسی تکلف کی باتیں سوجھتی ہیں ہمارے بزرگوں کا طرزیہ رہا ہے کہ صاف تورہے کہ صاف تورہے مگر زیب وزینت اور تکلف نہ ہو بس میلا نہ ہو پسینے کی بونہ ہو اور یہ اعتدال بدوں صحبت کے میسر ہونا مشکل ہے باقی امتیاز کا قصد اگر آدمی نہ چاہے توفاخرہ لباس میں بھی امتیاز نہیں ہوسکتا اور اگر نفس امتیاز چاہے تواضع کے لباس میں بھی امتیاز ہوسکتا ہے کہ بڑے ہی بے نفس ہیں میں تواس ہی لئے اوسط درجہ کا کپڑا پہنتا ہوں کہ کسی قسم کا امتیاز نہ ہو۔
