ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت مولانا دیوبندی کی بھی اخیر میں یہی رائے ہو گئی تھی کہ بعض کے لئے تشدد کی ضرورت ہے چناچہ ایک معتبر شخص مجھ سے حضرت کا ارشاد نقل کرتے تھے کہ متکبرین کو تھانہ بھون بھیجنا چاہئے یہ وہاں درست ہو سکتے ہیں متکبر آدمی کو تھانہ بھون بھیجنے سے مراد میرے پاس بھیجنا تھا باوجود اس کے کہ حضرت اس قدر وسیع الاخلاق تھے جن کی نظیر مشکل ہے مگر متکبرین کے متعلق حضرت کی بھی یہی رائے تھی حضرت کا اخلاق پر یاد آیا یہ حکایت مجھ سے مولوی محمود صاحب رامپوری نے بیان کی رومپور سے میں اور ایک ہندو دیوبند ایک عدالتی ضرورت سے آئے میں نے حضرت کے یہاں قیام کیا اس ہندو نے مجھ سے کہا کہ میاں ایک چارپائی کی جگہ مجھ کو بھی دیدو تو میں بھی یہاں ہی پڑ رہوں تاکہ تحصیل میں ساتھ جانا آسان ہو میں نے اس کو بھی ایک چارپائی بتلادی گرمی کی دوپہر کا وقت تھا وہ اس پر پڑ کر سو گیا اور ایک چارپائی پر میں لیٹ گیا تھوڑی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت زنانہ مکان سے دبے دبے پاؤں تشریف لائے اور اس ہندو کی چارپائی کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے پاؤں دبانا شروع کر دیئے میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکا اٹھا اور پاس جاکر عرض کیا کہ حضرت تکلیف نہ فرمائیں میں دبا دوں گا فرمایا کہ یہ میرا حق ہے میرا مہمان ہے تم کو حق نہیں جاؤ اپنی جگہ لیٹو کہیں اس قیل و قال سے اس بیچارے کی آنکھ نہ کھل جائے اور پھر اس کو تکلیف ہو غرض حضرت پاؤں دباتے رہے اور اس کو کچھ خبر نہیں پڑا رہوا خر خر کر رہا تھا فرمایا کہ اس میں میں انا مقدر تھا تو حضرت کے اخلاق کی نظیر ملنا مشکل ہے مگر متکبرین کے متعلق حضرت کی بھی یہ ہی رائے تھی کہ ان کو تھانہ بھون بھیجا جائے وہاں ان کے مزاج درست ہونگے اور کمال اخلاق کے ساتھ حضرت کا یہ دوسرا کمال تھا کہ دونون شانیں جمع تھیں ایک وقت گھر پر کافر ضیف ( مہمان ) کا حق ادا ہو رہا ہے اور ایک وقت جب وہ کافر میدان میں آوے تو سیف کا حق ادا ہو رہا ہے جبکہ اس کا ظلم و حیف ( ستم ) ظاہر ہو ـ
(ملفوظ 182 )نہ ڈھیلا بنے نہ ڈھیلا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جس نام اخلاق ہے اچھی خاصی دکانداری ہے مجھ کو ایسے اخلاق متعارفہ سے نفرت ہے اسی لئے بدنام بھی ہوں مثلا یہ تعویز گنڈوں ہی کا سلسلہ ہے اگر ان لوگوں کے ساتھ ڈھیلا پن برتا جاتا تو اچھا خاصہ میلا لگ جاتا پھر کوئی کام بھی نہ ہو سکتا مزاحا فرمایا کہ سب کام میلا ہوجاتا اور خصوص عورتوں کا تو ہر وقت ہجوم رہتا اور عورتوں یا لڑکوں کا ہجوم فتنہ ہے اس میں بڑے بڑے مفسدے ہیں میری تو اس باب میں یہ رائے ہے کہ ایسے اسباب اختیار کرے کہ نہ ڈھیلا بنے بیائے مجہول اور نہ ڈھیلا بنے بیائے معروف ـ
( ملفوظ 180) سر سید کا ایک وعدہ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل سائل سوال کرتے پھرتے ہیں بظاہر نہایت تندرست ہٹے کٹے ہوتے ہیں ان کو کچھ دینا جائز ہے یا نہیں فرمایا نہیں آج کل تو لوگوں نے مانگنے کا پیشہ بنا لیا ہے اس پر استطر ادا ایک سائل کا قصہ فرمایا کہ مجھ سے ایک صاحب نے برادیت محسن الملک کے بیان کیا کہ سید احمد خان اپنی کوٹھی میں بیٹھے تھے اس میں شیشے کے کیواڑ تھے ایک شخص آئینوں میں سے نظر آیا نہایت بوسیدہ اور میلے کپڑے پہنے ہوئے کوٹھی سے باہر آکر بیٹھا یہ شیشہ کے کیواڑوں میں سے دیکھ رہے تھے محسن الملک بھی سید احمد خان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سرسید نے ان سے کہا کہ دیکھو یہ ایک مکار سائل ہے اور اب اپنا لباس تصنع کا بدلے گا اور پھر آکر سوال کریگا مگر میں اس کو ایک کوڑی نہ دوں گا ایسا ہی ہوا اس نے اپنی گٹھڑی میں سے چوغہ عمامہ تسبیح نکالی اور بن ٹھن کر کوٹھی پر آیا اور دستک دی کیواڑ کھول دیئے گئے اس نے اندر داخل ہو کر سلام کیا
ایک کرسی پر بیٹھ کر کہا کہ مجھ کو فلاں ضرورت ہے اعانت چاہتا ہوں سر سید اسی طرح بے التفاتی کے ساتھ لیٹے رہے دوران گفتگو میں اس کے منہ سے یہ بھی نکلا کہ میں شاہ غلام علی صاحب کا دیکھنے والا ہوں اس کے یہ کہنا تھا کہ سید احمد خان نہایت اضطراب کے ساتھ اتھ کر سیدھے بیٹھ گئے وہ کچھ حالات شاہ صاحب کے بیان کرتا رہا اور سر سید بہت توجہ سے سنتے رہے پھر اس کے لئے نہایت ادب و احترام کے ساتھ کھانا منگایا اور کھانے کے بعد پچاس روپیہ پیش کئے جب وہ چلا گیا تو محسن الملک نے پوچھا کہ یہ کیا خبط تھا خود ہی تو کہہ تھے کہ یہ شخص مکار سائل ہے ، پیشہ ور ہے اس کو ایک کوڑی نہ دوں گا یا ایسے معتقد ہوئے جیسے اس نے جادو کر دیا ہو آخر آپ کو یہ سوجھی کیا تھی سید احمد خان نے کہا کہ تم کو خبر نہیں اس شخص نے کس کا نام لیا اگر یہ اس وقت جان طلب کرتا تو میں عزر نہ کرتا حضرت شاہ صاحب کی اس قدر عظمت تھی نام سن کر از خود درفتگی کی کیفیت طاری ہو گئی
( ملفوظ 179) شاہجہان اور تخت طاؤس
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شاہجہان نے طاؤس بنوایا تھا ، وہ تخت اس وقت یورپ میں ہے بہت ہی قیمتی تخت ہے کئی لاکھ روپیہ صرف ہوا تھا جس وقت یہ تخت بن کر تیار ہوا اور شاہجہان اس تخت پر بیٹھے ہیں ان کے وزیر سعدللہ خاں پانی کے رہنے والے اپنی آستین میں ایک چھرا رکھ کر دربار میں حاضر ہوئے شاہجہان نے تخت پر اول دو رکعت نفل شکرانہ ادا کیا اور عرض کیا کہ اے اللہ فرعون کو تخت آپ نے عطاء فرمایا تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور مجھ کو عطا فرمایا تو میں آپ کی بندگی ادا کر رہا ہوں یہ مجھ پر آپ کا فضل اور رحمت ہے پھر سعدللہ خان سے چھرا لانیکی مصلحت پوچھی یہ سن کر سعداللہ خان نے عرض کیا کہ مصلحت یہ تھی کہ اگر آج تخت پر بیٹھ کر کوئی کبر کا کلمہ آپ کے منہ سے نکلتا جس سے آگے کفر اندیشہ ہوتا تو کلمہ کفر نکلنے سے پہلے آپ کا کام تمام کردیتا اس لئے کہ میں نے آپ کا نمک کھایا تھا اس کو حلال کرتا گو اس کے عوض میں دوزخ ہی میں چلا جاتا مگر آپ کو کفریات سے متلبس نہ ہونے دیتا اس پر شاہجہان بہت خوش ہوئے اور سعداللہ خاں کی بڑی عزت اور قدر کی ـ
( ملفوظ 178)انگریزی پڑھ کر دین کی حفاظت کا طریقہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے ایک وعظ میں کہا تھا کہ میں انگریزی پڑھنے کو منع نہیں کرتا اگر ضرورت ہے پڑھو اور نہ میں کہتا ہوں کہ عربی پڑھ کر سب علامہ بن جائیں ہاں
دین کی حفاظت کی ہر مسلمان کیلئے ضرورت ہے سو اس کی ایک صورت بیان کرتا ہوں کہ انگریزی پڑھ کر بھی حفاظت ممکن ہو وہ صورت یہ ہے کہ تعطیلات کے زمانے میں نصف حصہ لہو و لعب میں صرف کرو اور کم از کم نصف حصہ اہل اللہ کی صحبت میں صرف کرو یہ صحبت بڑی چیز ہے تو اس صورت میں دین محفوظ رہے گا ورنہ نری انگریزی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جیسے دیوبند کا ایک قصہ ہے وہاں کے رہنے والے ایک ڈپٹی صاحب تھے ان کے باپ پرانی وضع کے سادہ مزاج گاڑھا پوش تھے بیٹے سے ان کی نوکری پر ملنے گئے ان کے دوست احباب نے پوچھا کہ آپ کی تعریف باپ کہتے ہوئے عار آئی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پڑوسی ہیں ان بڑے میاں نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے میں اس کی ماں کا پڑوسی ہوں وہ میری بغل میں رہا کرتی ہے لوگ سمجھ گئے کہ بڑے میاں ڈپٹی صاحب کے باپ ہیں ایک واقعہ ہے ایک صاحب ولایت پاس کر کے آئے باپ سے ملے تو مصافحہ کرتے وقت پوچھا کہ ول بڈھا تم اچھا ہے ادب کا تو نام نہیں رہتا فرمایا کہ ادب پر آیا یاد دہلی میں حکیم عبدلمجید خاں صاحب سب جانتے ہیں کس درجہ کے تھے فن میں بھی عزت میں بھی میں نے ان سے نفیسی کے کچھ سبق پڑھے بھی ہیں اس معنی کو میرے استاد بھی تھے ان کے ایک مصاحب بیان کرتے تھے کہ ایک بار انہوں نے یہاں آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ان ہی صاحب سے جو کہ تھانہ بھون کے رہنے والے تھے کہ وہاں جانے کے کیا شرائط اور ملنے کے کیا اوقات ہیں انہوں نے کہا کہ آپ کو اس تحقیق کی کیا ضرورت ہے آپ تو ان کے استاد ہیں تو حکیم صاحب نے یہ فرمایا کہ میں جس حیثیت سے جارہا ہوں اسی طرح جاؤں گا اس میں استادی شاگردی کا کوئی دخل نہیں یہ ہے ادب آج شاگرد اتنا ادب نہیں کرتے استاد کا جتنا پہلے استاد کرتے تھے اپنے شاگردوں کا ایک واقعہ یاد آیا خورجہ کے رہنے والے مظفر نگر میں ایک ڈپٹی صاحب تھے جو صاحب نسبت صاحب طریقت بھی تھے ایک مرتبہ وہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے ملے تنے وہ معمر شخص تھے اور حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی عمر اس وقت بہت تھوڑی تھی مگر حضرت کی شہرت ہو چکی تھی بہت لوگ معتقد بھی تھے ان ڈپٹی صاحب نے بھی ایک بیاض لکھی ہے بیاض دلکشا اس کا نام ہے اس میں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت کی برکت کی نسبت لکھا ہے ـ
آہن کہ بپارس آشنا شد فی الحال بصورت طلا شد
( جو لوہا پارس سے چھو بھی فورا سونا ہو جاتا ہے 12 – )
محض ایک ہی ملاقات معلوم ہوئی ہے اور خود بھی صاحب نسبت تھے اور معمر اور معزز مگر ایک ہی
ملاقات کا یہ اثر ہوا کہ کیسی عقیدت کا اظہار فرمایا یہ ہے ادب ـ
6 محرم الحرام 1351 ہجری مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 177)بزرگوں کی ہر بات میں برکت ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کی ہر بات با برکت ہوتی ہے پانی پت میں ایک بزرگ تھے عادۃ تو وہ صاحب سماع نہیں تھے مگر اس سے پرہیز بھی نہ تھا کسی مجلس میں اتفاق سے شریک ہو گئے ایک بار اتفاق ہی سے ایک مجلس میں شریک تھے قوال یہ کہہ رہا تھا ایسا ٹونا کردے ری ایسا ٹونا کردے یعنی ایسا سحر کردے اسی وقت میں ایک عورت اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی کہ مجھ کو سب ستاتا ہے ناراض رہتا ہے اون بزرگ نے خادم سے کہا کہ یہ ہی لکھ کر دیدو کہ ایسا ٹونہ کردے ری خادم نے یہ ہی لکھ کر اس عورت کو دے دیا خدا کی قدرت سے خاوند مسخر و مطیع ہو گیا ـ
( ملفوظ 176) ہدیہ رد کرنے کا فائدہ
ایک نو وارد صاحب نے پانچ روپیہ ہدیہ حضرت والا کی خدمت میں پیش کئے معمول کے خلاف ہونے کی بناء پر حضرت والا نے قبول فرمانے سے انکار فرمایا تھوڑی دیر میں ان صاحب سے ایک غلطی ہوئی اس پر تنبیہ فرماتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ اس وقت میرے پانچ روپیہ کا تو نقصان ہوا لیکن اگر میں وصول کر لیتا تو اس وقت آپ کی اصلاح کے متعلق صاف صاف نہ کہہ سکتا تھا لے لینے کے بعد خیال تو ہوتا ہی ہے کہ یہ میرے محسن ہیں ان کی رعایت کرنا چاہئے یہ نہ لینے ہی کی برکت ہے کہ صاف صاف کہہ دیا اور اگر نہ کہتا تو ان کے دین کا نقصان تھا اور اب تو اپنا دنیا کا نقصان کیا بلا سے پانچ روپیہ نہ ملے مگر ایک مسلمان کو ہمیشہ کے لئے جہل سے نجات مل گئی ـ
ملفوظ( 175)زیادہ غلطیاں فکر کی کمی سے ہوتی ہیں فہم کی کمی سے نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں اس پر قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ فہم کی کمی سے غلطیاں بہت کم ہوتی ہیں زیادہ فکر کی کمی سے ہوتی ہیں اور فکر ہوتے ہوئے اگر فہم کی کمی بھی ہو اس سے غلطیاں عدد میں بھی کم ہوتی ہیں اور کیفا بھی کم ہوتی ہیں مگر فکر و غور سے کام نہیں لیتے اس سبب سے غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اگر فکر ہو تو سمجھ میں نہ آنے پر دوسرے سے پوچھے گا کہانتک غلطی ہوگی چونکہ فکر اور توجہ سے کام نہیں لیتے اس لئے مجھ کو زیادہ غصہ آتا ہے اور فکر کی کمی کا سبب طلب کی کمی ہے چناچہ خدا کی اتنی بھی طلب نہیں کہ جتنی کسی رنڈی پر یا لڑکے پر عاشق ہوجانے پر اس کی طلب پے پھر شیخ کی تعلم کا کیا خاک اثر ہو خدا سے صحیح اور قومی تعلق پیدا کرنا چاہئے اور وہ بدون اس کے فکر کے ساتھ اعمال میں احوال میں باطنا بھی ظاہرا بھی شریعت کا پورا اتباع ہو ہی نہیں سکتا ـ
ملفوظ( 174)طالب کی اصلاح میں کمی کرنا خیانت ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ہر شخص کے ساتھ یہ چاہتا ہوں کہ بات صاف ہو معاملہ صاف ہو اس میں تلبیس نہ ہو ایہام نہ ہو خصوص ان لوگوں سے جو محبت کا دعوی کرتے ہیں تعلق کا دعوی کرتے ہیں ان کی تو اگر ذراسی بات بھی بے ڈھنگی ہوتی ہے تق برداشت نہیں کر سکتا اور اصل بات یہ ہے کہ اصلاح موقوف ہے فہم پر اور فہم لوگوں میں نہیں پھر اصلاح کس طرح ہو اگر میں ان کی بہودگیوں پر سکوت کروں تو یہ ہو سکتا ہے کیا مشکل ہے بلکہ اس میں مجھے راحت بھی ہے مگر میں ایسے سکوت کو خیانت سمجھتا ہوں جیسے مریض طبیب کے پاس جائے اور طبیب اس مریض کے مرض پر اطلاع نہ دے اس کے مرض کو چھپائے کیا یہ خیانت نہیں اور تف ہے ایسے چھپانے پر اور ایسی خوش اخلاقی پر جو آج کل کے رسمی پیروں کے ہاں مروج ہے اب تو خلاصہ اس تعلق کا یہ رہ گیا ہے کہ مرید نے ہاتھ پاؤں چوم لئے نذرانہ پیش کر دیا آگے نہ مرید کو اصلاح کی ضرورت نہ پیر کو احتساب کی ضرورت شمع کی طرح پیر صاحب بیچ میں بیٹھے ہیں اور پروانے ( مرید چہار طرف جمع ہیں سو مجھ کو تو یہ طرز کسی درجہ میں بھی پسند نہیں لیکن اگر اس کے مقابلہ میں کسی کو ہمارا طرز بھی پسند نہ ہو تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں مت آؤ اور اگر آگے ہو اور دھوکا ہو گیا ہے تو اب چلے جاؤ بلانے کون جاتا ہے اور اگر باوجود ہمارے اس طرز کے بھی ہم کوئی لپٹے تو پھر اس طرز کے حقوق ادا کرو بقول عارف شرازی ـ
یامکن با پلیبا نان دوستی یا بنا کن خانہ بر انداز پیل
یامکش بر چہرہ نیل عاشق یا فرد شو جامہ تقوی بہ نیل
( یا تو ہاتھی والے سے دوستی نہ کرو یا گھر ایسا بناؤ جہاں ہوتھی آسکے یو تو عاشقی کا دعویٰ نہ کرو اور اگر کرتے ہو تو تقویٰ کو خیر باد کہو )
اور یہ حقوق وہ ہونگے جن کو ہم حقوق سمجھتے ہیں وہ نہیں جن کو تم حقوق سمجھتے ہو اور اگر کسی سے یہ ہو سکتا تو ہم سے تعلق مت رکھو لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ بلی کے گوہ کی طرح ان کے نقائص کو دبائے رہو سو اگر ایسا کیا گیا تو پھر اصلاح کس طرح ہوگی اور مجھ سے یہ توقع رکھنا کہ میں دوسرے کی حالت کو چھپاؤں مشکل ہے جبکہ میں اس کا اخفا کرنا خیانت سمجھتا ہوں پھر یہ بات بھی تو قابل رہے کہ خود میری حالت کھلی ہوئی ہے بری یا بھلی میں خود اس کو نہیں چھپاتا اگر اس حالت میں میں کسی کو پسند ہوں مجھ سے تعلق پیدا کریں ورنہ اور کہیں جائیں بقول غالب
ہاں وہ تعلق وفا پرست جاؤ وہ بیوفا سہی جسکو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
میرے طرز کو تشدد کہا جاتا ہے حضرت شیخ اکبر نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ مریدوں کو آپس میں زیادہ نہ ملنے دینا چاہئے کیا یہ بھی تشدد ہے اور واقعی شیخ نے یہ بڑے کام کی بات فرائی اس لئے کہ دیکھا جاتا ہے کہ آپس میں زیادہ نہ ملنے دینا چاہئے کیا یہ بھی تشدد ہے اور واقعی شیخ نے یہ بڑے کام کی بات فرمائی اس لئے کہ دیکھا جاتا ہے کہ آپس میں بیٹھ کر کہیں شاعری ہو رہی ہے لطیفے ہو رہے ہیں بے سمجھے نکات و اسرار بیان ہو رہے ہیں غرض یونہی وقت فضول بیکار برباد کیا جاتا ہے نہ ذکر ہے نہ شغل ہے نہ فکر نہ تلاوت ہے نہ نفل ہیں بس مجالس ہی مجالس رہ جاتی ہے اور حضرت شیخ اکبر تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرید شیخ سے کسی تعلیم کی مصلحت پوچھے اس کو نکال دو ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ جب کوئی طالب آکر بیعت کا سوال کرتا ہے تو آپ کھانے میں امتحان لیتے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد جو کھانا بچا ہے اس میں روٹی سالن تناسب سے بچایا نہیں اگر تناسب نہ ہوتا تو بیعت سے عزر فرمادیتے کہ تمہاری طبیعت میں انتظام نہیں ہمارے یہاں تمہارا نباہ نہ ہوگا اور بزرگوں نے ہمیشہ طالبوں کے بڑے بڑے سخت امتحانات لئے ہیں میرے یہاں تو پھر بھی بہت وسعت ہے باقی میرا اصلی مذاق یہی ہے کہ قبل مرید کے تو اس کی دوستی کے حقوق کو پورے طور سے محفوظ رکھتا ہوں ـ مگر بعد مرید ہونے کے پھر دوستی کے علاقہ کو نا پسند کرتا ہوں اس وقت مریض اور طبیب کے علاقہ کی ضرورت ہے مگر لوگوں کو خبر نہیں اس طریق کی اور اس کے آداب کی اور عوام تو بیچارے کس شمار میں ہیں اکثر علماء تک کو خبر نہیں اور اللہ میں تو بہت رعایتیں کرتا ہوں مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ میں غلامی بھی نہیں کرتا ایک مولوی صاحب ہیں ان کو میری سیاست کے وقت لوگوں پر بہت رحم آتا تھا میں نے ان کو ایک رسالہ آداب الشیخ دیا کہ اس کو بغور دیکھئے یہ رسالہ شیخ اکبر کے ایک رسالہ کا ترجمہ ہے اصل رسالہ عربی میں تھا اس کا میرے ایک دوست نے اردو میں ترجمہ کر دیا ہے انہوں نے دیکھا کہنے لگے کہ یہ تو آپ سے بھی کہیں آگے بڑھے ہوئے ہیں اس کے بعد انکا تشدد کا گمان رفع ہوا ـ
( ملفوظ 173)دین میں نظر آنے والی دشواریوں کی مثال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو دین سے توحش ہے اس کا سبب جہل و کسل ہے اگر علم صحیح و طلب صادق ہو تو دین میں کوئی دشواری اور تنگی پیش آ سکتی ہے مجھے تو اس باب میں اس قدر شرح صدر ہے کہ میں اس پر قسم کھا سکتا ہوں جتنی دشواریاں دین میں نظر آرہی ہے ہیں اگر ارادہ کرو اور عمل شروع کردوں تو میں سچ عرض کرتا ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سب دشواریاں ہٹتی چلی جائیں میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ جنگل میں دیکھا ہوگا یا کسی پختہ سڑک پر کہ راستہ کے دونوں طرف کے درخت ہوتے ہیں اور دور سے نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگے چل کر دونوں طرف کے درخت آپس میں ملے ہوئے ہیں اور راستہ بند ہے اب یہ اس کو دیکھ ہر اس زدہ کھڑا ہے کوئی مبصر آیا اس نے دریافت کیا کہ کیوں ہراس ہے کہتا ہے ک راستہ آگے بند ہے منزل مقصود پر کیسے پینچوں گا وہ کہتا ہے کہ جہاں تک راستہ کھلا ہے وہاں تک تو چل اور پہنچ پھر آگے دیکھنا اب وہاں پہنچ کر جس راستہ کو بند سمجھتا تھا اتنا ہی اور راستہ بھی کھلا ہوا نظر آیا لیجئے کام بن گیا جب تک چلنا شروع نہ کیا تھا وقت تک راستہ بند نظر آرہا تھا اگر چلنا شروع کرو خود بخود درخت اور پہاڑ سب ہٹتے نظر آئیں گے اور واقع میں وہ پہاڑ ہی نہیں تھے محض تمہارا خیال اور وہم تھا اسی کو فرماتے ہیں ـ
اے خلیل اینجا ارودود نیست جز کہ سحر و حذعہ ، نمرود نیست ،
طلب اور ہمت پر جبکہ خلوص کیساتھ ہو بڑے بڑے پہاڑ حباء منثتورا ہو کر میدان بن ہو جاتے ہیں اسی کو فرماتے ہیں ـ
گر رخنہ نیست عالم را پدید خیرہ یوسف وارمی باید دوید
( اے خلیل ابراہیم یہاں شعلے اور دھواں نہیں ہے سوائے نمرود کے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں ہے 112 اگر عالم میں راستہ نظر نہیں آتا مگر یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہئے خود بخود راستہ کھلتا چلا جاوے گا ـ 12 ـ

You must be logged in to post a comment.