ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کی بے استقلالی کی حالت دیکھ کر کیا کسی کام کرنے کو جی چاہے اور کیا ہمت بڑھے معترض لوگ کہتے تو ہیں کہ یہ کسی کام میں شرکت نہیں کرتا اگر یہ شرکت کرے تو سب کام ہو جائیں مگر ان باتوں کو تو میں ہی سمجھتا ہوں مجھ کو لوگوں کی حالت کا تجربہ ہے میں اپنے تجربات کو دوسروں کے کہنے سے کیسے فراموش کر دوں مثال میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں یہاں پر ایک چندہ ہوا تھا احباب خاص میں وہ بھی تھی اس میں ایک حصہ چند آدمیوں نے مل کر اپنے ذمہ لیا تھا رمضان المبارک سے قبل کا واقعہ ہے آج تک بھی ایک پیسہ نہیں آیا یہ حالت ہے ایک خط اطلاعی گیا اس کا جواب نہیں اور تماشہ یہ ہے کہ یہ سب لوگ بعت کا تعلق رکھنے والے ہیں جن کی یہ حالت اس کے مصداق ہے ـ
گرجان طلبی مضائقہ نیست گر زر طلبی سخن وریں ھست
( اگر جان مانگو تو حاضر ہے اگر روپیہ مانگو تو اس میں ذرا تردد ہے ـ 12 ـ )
کسی ظریف کا قول ہے محبت رکھیں پاک لینے دینے کے منہ میں خاک ان ہی واقعات سے مجھ کو آج کل کے چندہ سے بے حد نفرت ہے لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے بھی یوں وصول کیا اور اس ترکیب سے وصول کیا بھیک مانگنے میں کون سی عزت ہے اس میں تو ذلت ہے اگر جبر سے یا اثر سے کام لیا تو یہ ڈکیتی ہوئی اس میں بھی کونسی عزت ہے اور اگر ڈکیتی میں عزت ہے تو پھر کھلم کھلا ڈکیتی ہی ڈالو عزت کا کام تو کرنا چاہئے ایک بہت بڑے علامہ سے میری گفتگو ہوئی تحریک خاص پر کہ یہ جائز نہیں پوچھا کہ کیا دلیل ہے میں نے حدیث پڑھی : الا لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفس منہ ۔ یعنی کسی مسلمان آدمی کا مال بدون اس کی خوشدلی کے حلال نہیں تو کہتے ہیں ہاں مگر اس درجہ کا حرام نہیں میں نے دل میں کہا کہ کل کو یہ کہے گا کہ مال حرام ہے مگر اس درجہ کا حرام نہیں یہ تو گرانی کی تسلیم پر گفتگو تھی اور اگر کسی کو شبہ ہو کہ لوگ ہمارے مرید ہیں مرید کو گرانی نہیں ہوتی سو اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہو سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات سے فرماتے ہیں کہ مجھ کو اپنے بعد تمہارے بہت خیال ہے کہ کون تمہاری خدمت کرے گا غور کرنے کی بات ہے کہ صحابہ کے متعلق حضور کا یہ خیال اس کے بعد کسی پیر یا شیخ کو اپنے مرید پر کس طرح اعتماد ہوسکتا ہے کہ تحریک خاص پر گرانی نہ ہو گی کیا منہ ہے کسی کا جبکہ حضور کا یہ خیال ہے کہ ہزاروں میں سے کم ایسے ہونگے جو خدمت کر سکیں گے باوجود اس کے صحابہ جان نثار تھے قربان جایئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کیسی پاکیزہ تعلیم فرما گئے ـ
( ملفوظ 171) میلان الی الامرد کے علاج کا نفع :
فرمایا گیا کہ ایک شخص کا خط آیا تھا لکھا تھا کہ ایک لڑکے کی طرف میلان ہو گیا ہے ہر وقت شب و روز اس کا دل میں خیال رہتا ہے اب چند ماہ بعد ہوش آیا ہے آپ کو لکھتا ہوں دعاء بھی فرمادیں کہ اس بلاء سے نجات ہو اور اصلاح بھی فرمادیں میں نے جواب میں لکھ دیا تھا کہ التکشف جلد اول کے صفحہ 10 پر اس کا علاج مذکور ہے دیکھیں اور عمل کریں آج پھر خط آیا ہے لکھا ہے میں نے اس کو دیکھ کر عمل کیا اللہ کا شکر ہے کہ مرض کا علاج ہو گیا اب کسی وقت بھی اس کا خیال نہیں آتا میں نے جواب لکھ دیا ہے کہ مبارک ہو اس پر فرمایا کہ اگر کوئی خود اپنا علاج چاہے اللہ تعالٰی مدد فرماتے ہیں ـ التکشف میں جو اس کے متعلق تدبیر میں لکھی ہیں الحمد اللہ اس سے بہت لوگوں کو نفع ہوا ـ
( ملفوظ 170)چندہ لینے میں احتیاط
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل چندہ کے بارے میں بہت ہی کم احتیاط ہے حتی کہ قریب قریب تمام مدارس میں بھی اس باب میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا ہے میں اس معاملہ میں سخت ہوں اور زیادہ بے احتیاطی یہ ہے کہ جو فردا فردا چندہ کی تحریک کی جاتی ہے اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے گرانی ہوتی ہے نیز نہ دینے پر بخل بھی ثابت ہوتا ہے جس کا حاصل ایک مسلمان کو متہم کرنا ہے اور یہ کسی طرح جائز نہیں ہیں جو تحریک عام اور تحریک خاص میں امتیاز کرتا ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک مسلمان پر بار نہ ہو گرانی نہ ہو اور بدنام نہ ہو دعوت عام اور چیز ہے اور انفرادی صورت میں کسی سے سوال کرنا اور چیز ہے مجھ کو تجربہ ہے لوگوں کی حالت معلوم ہے اس تحریک خاص کا اثر ظہور بخل قرآن مجید میں بھی مذکور ہے ـ ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ۔ کیونکہ اخفاء والحاف خطاب خاص ہی میں ہو سکتا ہے اور اس کے بعد خطاب عام کا اس عنوان سے ذکر ہے ـ انتم ھؤلاء تدعون لتنفقو فی سبیل اللہ ۔ یہ دعوت خطاب عام ہے اور اسی فرق کی وجہ سے اخفاء پر جو بخل ہو اس میں نکیر نہیں فرمایا گیا کہ معزور ہے اور دعوت پر جو بخل ہو اس پر نکیر فرماگیا ـ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ الایۃ ۔ میں نے میرٹھ کے ایک وعظ میں اس فرق کو بیان کیا تھا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب بھی اس بیان میں شریک تھے وعظ کے بعد خوش ہو کر فرمایا کہ آج آیت کے معنی معلوم ہوئے یہ ان کی تواضع و محبت تھی مولانا خلیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ میرے متعلق فرمایا کہ میں اس کو اس وقت سے جانتا ہوں کہ یہ مجھ کو نہ جانتا تھا مجھ سے بڑی محبت فرماتے اور حضرت صاحب میرے پاس ہے ہی کیا بس یہ ہی ایک چیز ہے یعنی اللہ والوں کی محبت مولانا نہایت سادہ تھے کوئی بناوٹ نہ تھی ـ
( ملفوظ 169) ملقب بہ تنبیہ الاحزاب علی ضرورۃ الحجاب : ( یعنی پردہ کی ضرورت )
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بے پردگی اعلی درجہ ک بے حیائی اور بے غیرتی ہے نصوص اور مسائل کے خلاف ہونے کے علاوہ بے پردگی خود ایک غیرت کی چیز ہے جو کہ فطری ہے ان بے حسوں میں غیرت بھی رہی مجھ کو تو مسلمانوں کی اس حالت پر بے حد صدمہ اور رنج ہے کیا کروں اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہو تو ایک دن میں ان کو درست کر دوں حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں ایک شخص ضبیع نام مدینہ میں وارد ہوا اور قرآن شریف کے متشابہات میں سوال جواب کرنا شروع کیا آپ نے حاضر ہونے کا حکم دیا اور سر پر قمچیاں مارنا شروع کیں بس دماغ درست ہو گیا پھر اس کو وطن واپس کر دیا اور حضرت ابوموسٰی اشعری کو جو کہ عامل تھے لکھ دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو اس کے پاس کوئی نہ بیٹھے کزافی روح المعانی ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نعل دار جاتا روشن دماغ ہے واقعی صحیح ہے اور یہ فرمایا کرتے تھے جہاں چار کتابیں آسمان سے نازل ہوئی ہیں تو توریت ، زبور ، انجیل ، قرآن اگر ان سے عملی فیصلہ نہ ہو تو اس کے لئے ایک پانچویں چیز بھی حق تعالی نے نازل فرمائی ہے وہ اس آیت کے مذکور ہے : وانزلنا الحدید فیہ باس شدید ـ
یعنی لوہے کو بھی نازل فرمایا ہے مراد اس سے سیف ہے اس سے عملی فیصلہ ہو جاتا ہے اسلام میں آج کل یہ ہی تو نہیں رہی اسی کی ساری خرابی ہے آزادی کا زمانہ ہے جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے جو منہ میں آتا ہے بکتا ہے اس آزادی سے یہاں تک نوبت آگئی ہے کہ عام پلیٹ فارموں پر بے پردگی کے متعلق لیکچر دیئے جاتے ہیں قرآن و حدیث میں تحریف کی جاتی ہے اور ان تازہ تحریکات کی بدولت اور زیادہ گمراہی کا دروازہ کھل گیا لوگ دلیر ہو گئے اور ان آزاد لوگوں کو زیادہ جرات مولویوں کی شرکت سے پیدا ہوئی اگر یہ جماعت الگ رہتی تو ان کو اتنا حوصلہ نہ ہوتا اس لئے مولویوں کی شرکت کی وجہ سے عوام ان قصوں میں شریک ہو گئے اور ان بد دینوں کو ان کے گمراہ کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا اورجن لوگوں نے خدا ترسی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ دین محفوظ رہے ان تحریکات سے علیحدگی رکھی ان پر قسم قسم کے الزام اور بہتان باندھے گئے بدنام کیا گیا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن سی آئی ڈی کے محکمہ سے تنخواہ پانے والے ہیں اور جا بجا مسلمانوں کو قتل اور مسجدوں کو شہید کرنا شروع کیا تب حقیقت منکشف ہوئی کہ واقعی ہم کہاں اور کس طرف جارہے تھے یہ اس کا نتیجہ ملا کہ خدا کے دشمن کے ساتھ سازش کی تحید اور رسالت کے منکروں کو مسلمانوں کے مجمع میں مذکر بنایا مساجد کے ممبروں پر ان کو بٹھایا یہ ہیں عقلا بیدار مغز یہ ہیں روشن دماغ جن کے دماغوں میں گیس کے انڈے اور بجلیاں اگر اس سے دماغ روشن ہو تو پھر دیکھو کہ خدا کی اعانت خدا کی امداد خدا کی رحمت خدا کی نصرت تمہارے سروں پر بادل کی طرح سایہ افگن ہو اور اس وقت تمام عالم کی غیر مسلم اقوام بھی مل کر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیوں کہ گدا گری کرتے پھرتے ہو تمہارے گھر کے اندر خود خزانہ دفن ہے اگر تم کو خبر نہں تو جن کو خبر ہے ان سے دریافت کرو اس کے حصول کا طریقہ معلوم کرو ان کی جوتیاں سیدھی کرو ان کی ناز برادری کرو پھر دیکھو کہ کیا کچھ ملتا ہے کور باطن دوسری قوموں کی ترقی اور دولت کو دیکھ کر رال ٹپکاتے پھرتے ہیں تم کو خود ایک اتنی زبر دست دولت سے نوازا گیا ہے کہ وہ دولت اور کسی کو حاصل ہی نہیں اور اس دولت کے سامنے تمام ترقیاں اور دولتیں گرد ہیں وہ اپنے خناس کو دماغ سے نکال دو تب دیکھو ابھی تک تو بتوں ہی کی پرستش میں گزری ہے ذرا خدا کی پرستش کر کے بھی دیکھ لو اگر اعتقاد سے نہیں تو بطور امتحان ہی سہی اسی کو فراماتے ہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی دل خراش آذموں را یک زمانے خاک باش
در بہاراں کے شود سر سبز سنگ خاک شوتا گل بروید رنگ رنگ
برسوں تک تو سخت پتھر کی طرح رہا ہے ـ آزمائش کے لئے چند ہی روز کے لئے خاک کی طرح نرم ہو جاؤ دیکھ زمانہ بہار کی پتھر سر سبز نہیں ہوتا اور خاک میں رنگ رنگ کے پھول کھلتے ہیں ـ 12 ـ میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ اس کے بعد پھر تم ہی تم نظر آؤ گے میں یہ کہہ رہا تھا کہ ساری خرابی آزادی کے سبب ہے ایک صاحب کا واقعہ یاد آیا کہ وہ پردہ کے خلاف لیکچر دے رہے تھے ایک شخص نے درمیان لیکچر میں کہا کہ آپ پہلے اپنی بیوی کو پردہ کا خلاف لیکچر دے رہے تھے ایک شخص نے درمیان لیکچر میں کہا کہ آپ پہلے اپنی بیوی کو پردہ سے نکالئے گھر گئے اور اپنی بیوی کو بے پردگی پر راضی کر کے نکال لائے مگر کپڑے وہی ہندستانی گلبدن کا پاجامہ وغیرہ اتفاق سے ایک مرتبہ ان کو سفر پیش آیا تو ریل کے اندر فسٹ کلاس کے درجہ میں سفر کیا اس لئے بڑے آدمی تھے ایک اسٹیشن پر کسی چیز کی ضرورت ہوئی خاوند صاحب تو چیز لینے گئے اور وہاں پر ایک انگریز کوئی بڑا افسر اس درجہ میں آکر بیٹھا اس نے اس عورت کو دیکھ کر کہا کہ تم رنڈی ہے تم کیوں اس درجہ میں بیٹھی ہو کسی دوسری جگہ جاؤ اس عورت نے کہا کہ میں رنڈی نہیں ہوں گھر ستن ہوں اس پر جھگرا ہو ہی رہا تھا کہ خاوند صاحب تشریف لے آئے انہوں نے بھی اس انگریز سے کہا کہ یہ ہماری منکوحہ ہے اس نے کہا کہ ہم کو ہندستان میں اتنا زمانہ گزر گیا ہم نے کبھی کسی شریف عورت کی صورت نہیں دیکھی تم جھوٹ بولتے ہو یہ رنڈی ہے اور تم اس کے آشنا ہو یہ صاحب اسٹیشن ماسٹر کو بلا کر لائے اس نے تصدیق کی کہ میں ان کو جانتا ہوں یہ ان کی بیوی ہیں پھر اس نے مزاحمت تو نہیں کی مگر نفرت ظاہر کر کے خود دوسرے ڈبہ میں جا بیٹھا اب غور کیجئے ایک انگریز بے دین بے قید بے باک مگر اس قدر غیرت آئی کہ ہندستان میں شریف عورت اس طرح کیوں بے محابا پھرتی ہے اپنی عورت کے لئے تو ان کی بے حیائی کو گوارا کر لیا مگر ہندستانی عورت کیلئے گوارا نہیں کیا جہاں تک تتبع کیا گیا پردہ کے مخالف یا تو رذیل ہیں یا بدمعاش رذیل تو اس وجہ سے کہ اوروں کا کبڑا ہونا تاکہ جس طرح وہ مجھ کو ہنستے ہیں میں بھی ان کو ہنسوں اور بدمعاش اس وجہ سے کہ اوروں کا کبڑا ہونا تاکہ جس طرح وہ مجھ کو ہنستے ہیں میں بھی ان کو ہنسوں اور بدمعاش اس وجہ سے کہ اپنی خواہشات کو پورا کریں ایک صاحب کا دوسرا واقعہ ہے منصوری پہاڑ پر اپنی نیوی کو ساتھ لئے جا رہے تھے چند بدمعاشوں نے مل کر یہ حرکت کی کہ دو نے اس کے خاوند کو پکڑ لیا اور بقیہ اس کو لے گئے اور زبردستی منہ کالا کیا پھر دو پھر ان دو نے بھی کیا یہ نتائج ہیں بے پردگی کے اس کے بعد اس شخص کو ہوش آیا اور اپنی بیوی کو پردہ کرایا تجربہ سے قبل تو احکام کی ان لوگوں کے قلوب میں وقعت اور عظمت ہوتی ہی نہیں ایسے کور مغز ہیں ـ
30/ ذی الحجہ 1350 ہجری مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 168) استاد کے بغیر علم اور شیخ کے بغیر عمل نہیں آتا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدون استاد کے کوئی کام نہیں آسکتا ایک ادنی سی بات ہے قلم بنانا مگر وہ بھی بدون استاد کے نہیں بنا سکتا یعنی جب تک کسی استاد سے بنانا نہ سیکھے نہیں بنا سکتا میں ہی ہوں حالانکہ لوہے کے قلم سے لکھ کر میرا جی خوش نہیں ہوتا سادہ قلم سے لکھنا تو جی خوش ہوتا ہے مگر قلمل خود نہیں بنا سکتا جب ضرورت ہوتی ہے دوسرے سے بنواتا ہوں تو جب ادنی چیزوں میں استاد کی ضرورت ہے تو مسائل بدون استاد کے اور اہل علم کے سیکھے ہوئے اور پڑھے ہوئے کیسے سمجھ میں آ سکتے ہیں اور اسی طرح بدون شیخ کامل کے اصلاح باطن کس طرح ہو سکتی ہے علم میں ضرورت ہے استاد کی عمل میں ضرورت ہے شیخ کامل کی محض کتابیں دیکھ کر کام نہیں چلا سکتا جیسے مریض کہ طب کی کتاب دیکھ کر اپنا علاج نہیں کر سکتا ـ
( ملفوظ 167)ذم التحریف للدین الحنیف یعنی تحریف دین کی مذمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری زندگی کا مدار تو استحضار ثواب پر ہے ورنہ اس قدر طبیعت کمزور واقع ہوئی ہے کہ اگر ثواب کا استحضار نہ ہو تو میں بعض حوادث کا تحمل ہرگز نہیں کر سکتا تھا ـ بس یہ اعتقاد میری زندگی ہے کہ جہاں کوئی تکلیف پہنچی فورا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس میں ثواب ہے اس سے وہ کلفت جاتی رہتی ہے اگر ثواب کا اعتقاد نہ ہوتا تو میں تو ختم ہی ہو جاتا یہ امید ثواب ایسی قوت کی چیز ہے کہ بڑی کلفت اور رنج کو سہل کر دیتی ہے اور افسوس ہے کہ اس کو آج کل معمولی چیز خیال کر رکھا ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں ـ نعوذ باللہ استغفراللہ ۔ میں کہتا ہوں کہ جس قدر مسلمانوں کے پاس سامان ہے قوت کا ان سب میں یہ ایک نہایت زبردست چیز ہے نئے تعلیم یافتہ اس پر ہنستے ہیں کہ ثواب کو لئے بیٹھے ہیں پرانے خیال کے ہیں بلکہ علماء تک نے بھی اس کی ترغیب چھوڑ دی وعظوں میں ثواب و عذاب کا ذکر ہی جاتا رہا حالانکہ قرآن و حدیث میں زیادہ یہی بھرا ہوا ہے اگر یہ کر گے ثواب ملے گا نہ کرو گے عذاب ہوگا مسلمان کے پاس اس کا کیا جواب ہے یہ خیال پھیلایا ہے آج کل کے نیچریوں نے نہایت ہی بد عقیدہ لوگ ہیں اور اکثر لیڈر اس ہی خیال کے ہیں خدا سے نڈر ہیں آج کل کے لیڈر بیدار مغز اور روشن دماغ کہلاتے ہیں نہ معلوم ان کے دماغوں میں گیس کے انڈے روشن ہیں یا بجلی سما گئی ہے حالانکہ یہ باتیں سب ظلماتی ہیں اور ان کو زیادہ تو خراب کیا ہے جب جاہ نے پرانے طریقوں کو ذلت سمجھتے ہیں ہماری عظمت اور عزت اسی میں ہے کہ ہم اپنے سلف کے طریقہ پر ان کے قدم بہ قدم چلیں ہماری صورت ہماری سیرت ہمارا لباس ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب اسی طرز پر ہو ہم بھی دین پر عمل کریں اور دوسروں سے بھی عمل کریں ـ غرض اسی پرانے طرز کو اختار کریں دیکھئے بوڑھے آدمی کی عظمت اور عزت اسی میں ہے کہ اپنے بڑھاپے کو چھپائے نہیں اگر چھپائے گا پوڈر مل کر یا خضاب کر کے تو ایک روز حقیقت کھلے ہی گی تو پھر جیسی ذلت کا سامنا ہوگا اظہر من الشمس ہے یہ نا معقول قوم کے رہبر اور پیشوا بننے کو تیار ہوئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ صورت سے بھی مسلمان کہلانے کے قابل نہیں اور داڑھی کے تو اس قدر دشمن ہیں کہ جس کا حد و حساب نہیں زیادہ افسوس یہ ہے کہ اعتقاد میں بھی تو اس حرکت کے استحسان کا درجہ ہے اس کو معیوب نہیں سمجھتے زیادہ شکایت تو یہی ہے کہ یہ طرز ان لوگوں نے اختیار کیا اور پھر اس کو تاویل سے اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ داڑھی منڈانا تو خاص جہاد کے موقع پر بھی جائز نہیں اور یہ محض جاہلانہ خیال ہے کہ داڑھی کے ہوتے ہوئے دشمن پر ہیبت نہ ہوگی رعب نہ ہوگا بلکہ جہاد میں بھی داڑھی والے کا رعب اور ہیبت ہوتی ہے کہنے کی تو بات نہ تھی کہتے ہوئے شرم آتی ہے مگر بضرورت کہتا ہوں کہ آپ کے ملک میں آپ ہی کے دوش بدوش ایک قوم ہے سکھوں کی اس کو دیکھ لیجئے کیا وہ پولیس میں نہیں وہ جنگ پر نہیں جاتے مگر دیکھ لیجئے کہ ان کے داڑھی ہوتی ہے یا نہیں انکا ذکر اس لئے کیا کہ آخر کس طرح ان بے غیرتوں کو غیرت بھی دلاؤں اور سن لیجئے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انگریزوں کے بادشاہ کے لئے قانونا حکم ہے داڑھی رکھنے کا اسی طرح اگر عورت حکمران ہو تو اس کو چوٹی کٹانے کی ممانعت ہے یہ اس قوم کا فتوی ہے جن کے یہ کور باطن مقلد ہیں خود انگلستان اور یورپ میں اسی قانون کا بادشاہوں کے لئے نفاذ ہے سو اگر یہ ذلت کی چیز سمجھی جاتی تو وہ اس کو کب گوارا کرتے پھر وہ بھی بادشاہ کے لئے ان باتوں کو سوچ کر کچھ تو شرم آنا چاہئے اس کے بعد ہم مشتاق ہیں کہ یورپ کے فتوی سن لینے کے بعد ہمارے لیڈر صاحبان اور ان کے ہم خیال اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں اس لئے کہ اگر عزت کی بات داڑھی منڈانا ہے تو بادشاہ کیلئے بہت زیادہ ضرورت ہے عزت کی اس کا کیا جواب دیتے ہیں یہ تو مدعی ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک مرتبہ حیدرآباد دکن میں ایک شخص وہابیت کے الزام میں پکڑا گیا اور دلیل یہ بیان کی گئی کہ تم کو جب دیکھو مسجد سے نکلتے ہوئے جب دیکھو قرآن پڑھتے ہوئے جب دیکھو نماز پڑھتے ہوئے ایک اور ان کے خیر خواہ شخص نے کہا کہ نہیں یہ وہابی نہیں میں نے ان کو فلاں رنڈی کے مجرے میں دیکھا تھا فلاں جگہ قوالی میں دیکھا تھا فلاں قبر کو سجدہ کرتے دیکھا تب بیچارے چھوڑے گئے اور جان بچی اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ اگر کسی میں خدا کی یاد ہے اور فرمانبرادری ہے تو مجرم قابل سزا بد عقیدہ اور اگر خدا کی نافرمانی اور مصیبتوں کا ذخیرہ ہے تو خوش عقیدہ اور قابل مدح اور پکے سنی اور حنفی انا للہ وانا الیہ راجعون مگر اب الحمدللہ یہ رنگ نہیں رہا حیدرآباد میں بمبئی کے متعلق ایک صاحب نے روایت بیان کی تھی کہ وہاں پر وہابی کی پہچان یہ ہے کہ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ ہو گھٹنوں سے نیچا کرتہ ہو پیشانی پر سجدہ کا نشان ہو ارکان نماز کی ادائیگی میں تعجیل نہ کرتا ہو بلکہ اطمینان سے نماز کو ادا کرتا ہو یہ وہابی کی پہچان ہے سو اگر یہی باتیں ہیں تو اس کا تو کسی کے پاس بھی کوئی علاج نہیں ـ
( ملفوظ 166)محقق ہمیشہ مقلد ہوگا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محقق آدمی جو جامع شرائط اجتہاد کا نہ ہو غیر مقلد نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اپنی تحقیق سے شرائط ہونا دیکھے گا ـ
( ملفوظ 165) اولاد اور بیوی کے نفقہ کا فرق
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اولاد اگر خود مالدار ہو اس کا نفقہ واجب نہیں مگر بیوی کا نفقہ ہر حال میں خاوند کے ذمہ فرض ہے ـ
( ملفوظ 164)مسلمان دیندار اور غیرت مند ہونا چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ مسلمان چاہے مالدار نہ ہو مگر دنیدار ہو اور غیرت والا ہو ـ
( ملفوظ 163) بے طریقہ ایک پیسہ بھی خرچ ہو تو دکھ ہوتا ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر دین کے لئے جان مال گھر سب خرچ ہو جائے کوئی مضائقہ نہیں لیکن جی یہ چاہتا ہے کہ طریقہ کے ساتھ ہو باقی یوں ہی گڑبڑ میں تو ایک پیسہ بھی جاتے ہوئے دل دکھتا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.