( ملفوظ 156) بھکاری کے مانگنے اور اسے دینے کا شرعی حکم

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سوال کرنا یعنی بھیک مانگنا ہر شخص کو جائز نہیں اور فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جسے سوال جائز نہیں اسے دنیا بھی جائز نہیں یہ گناہ کی اعانت ہے اس لئے گناہ ہے ہاں کسی پر اسقدر بار پڑ گیا ہو قرض کا کہ وہ کما کر نہیں دے سکتا اسی کی اعانت جائز ہے ـ
27 ذی الحجہ 1350 ھ بوقت صبح یوم پنجشنبہ

( ملفوظ 157)دین اور اہل دین کی عظمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ واقعہ تاریخ میں لکھا ہے ابن بطوطہ کا قوم ہے یہ سیاح ہیں کہ ہمارے زمانے کے مشائخ کا یہ معمول اور انتظام ہے کہ خانقاہ کے صدر دروازہ پر کچھ لوگ واردیں کی جانچ پڑتال کے لئے رہتے ہیں ہر طالب خود مشائخ تک پہنچ سکتا پہلے لوگ جانچ کر لیتے ہیں تب مشائخ تک کوئی پہنچ سکتا ہے اب اگر کوئی ایسا کرلے تو اسقدر بدنام ہو کہ الامان الحفیظ اس کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت کے لوگ اسقدر کم فہم نہ تھے اور ان کے قلوب میں دین اور اہل دین کی عظمت تھی اور آجکل اس کی کمی ہے خود مشائخ کو اپنا مطیع بنانا چاہتے ہیں ـ
29 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ ،

( ملفوظ 155) دین وظیفوں سے آسان نہیں ہوتا

ایک نو وارد صاحب نے عرض کیا کہ حضرت والا کوئی ایسا وظیفہ بتلاؤیں جس سے دین کے سب کام آسان ہو جائیں فرمایا کہ میں تو امراض کا علاج کرنے والا ہوں وظیفہ بتلانے والے اور بہت پیر ہیں وظائف ان سے پوچھو یہاں پر تو جو نفس میں کھوٹ ہیں خرابیاں ہیں جس سے گناہ صادر ہوتے ہیں ان کا علاج ہوتا ہے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا اتباع کرایا جاتا ہے ـ

( ملفوظ 154)دعا سب کی قبول ہوتی ہے یہاں تک کہ شیطان کی بھی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دعا سب کی قبول ہوتی ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کچھ قید نہیں انسان کی بھی قید نہیں حتیٰ کہ جانوروں تک کی دعا قبول ہوتی ہے ایک نبی دعا کے لئے چلے بارش نہ ہوتی تھی دیکھا کہا ایک چیونٹی ہاتھ اٹھائے دعا کر رہی ہے ساتھیوں سے فرمایا چلو بھائی اب ضرورت نہیں رہی دعا کی اس کی دعا قبول ہو چکی اور شیطان کو دیکھئے کٹ رہا ہے پٹ رہا ہے جوتیاں پڑ رہی ہیں ـ لعنت کا طوق گلے میں ڈالا جا رہا ہے اسوقت دعا کی اور دعا بھی ایسی جو کسی کی ہمت نہیں ہو سکتی کہ قیامت تک زندہ رہوں اور اس پر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ سب قبول کیا ٹھکانا ہے اس وسعت رحمت کا نا واقفوں میں یہ مسئلہ مشہور ہے کہ کافر کی دعا نجات کے لئے قبول نہ ہوگی وما دعاء الکافرین الا فی ضلال ۔ کے یہی معنی ہیں اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ قرآن شریف کا ترجمہ نہ دیکھیں کسی عالم سے پڑھنا چاہیئے سبقا سبقا اور عالم بھی حافظ ہوتا کہ اوپر نیچے کی آیت کو دیکھ کر سمجھ سکے مطلب یہ کہ سیاق و سباق معلوم کر سکے ـ

( ملفوظ 153) جمہوریت بچوں کا کھیل ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جمہوری سلطنت بھی کوئی سلطنت ہے محض بچوں کا کھیل ہےشطرنج کا سا نظام ہے حکومت تو شخصی ہی ہے اسی کی ہیبت اور رعب بھی ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 152)اتحاد ہندو مسلم کی تحریک

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولوی صاحب جو انتقال کر گئے ہیں اتحاد ہندو مسلم کی تحریک میں بہت ہی سر گرم تھے جب برادران وطن نے پریشان کیا اور ان کے جزبات کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دیکھا اور حقیقت منکشف ہوئی تب ان سے جدائی اختیار کی اور ایک رسالہ لکھا اس میں یہ شعر بھی جو اس حالت کو گویا پورا مصدق تھا ـ
اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا ذلیل ہم کوچہ رقیب میں سر کے بل گئے

( ملفوظ 151) اسلام میں شورائیت اور مشورہ کی حدود

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سلطان کو چاہیے کہ ہمیشہ عقلاء سے رائے لیتا ہے ـ بدون رائے لئے بہت سی باتیں نظر سے غائب رہتی ہیں ـ اور یہ مشورہ اور رائے تو مطلوب ہے مگر یہ مخترعہ متعارفہ جمہوریت محض گھڑا ہوا ڈھکوسلا ہے ـ بالخصوص ایسی جمہوری سلطنت جو مسلم اور کافر ارکان سے مرکب ہو وہ تو غیر مسلم ہی سلطنت ہوگی ـ ایسی سلطنت اسلامی سلطنت نہ کہلائے گی ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر سلطان کے مشورہ لینے کے وقت اہل شوری میں اختلاف رائے ہو جائے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے ـ سلطان کی رائے سے اختلاف کرنا مزموم تو نہیں جو اختلاف حکمت اور مصلحت اور تدین و خیر خواہی پر مبنی ہو ـ وہ مزموم نہیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے ـ یعنی یہ اختلاف اسی وقت جائز ہے ـ جب تک مشورہ کا درجہ رہے ـ مگر بعد نفاذ اختلاف کرنا یا خلاف کرنا یہ مزموم ہے ـ نفاذ کے بعد تو اطاعت ہی واجب ہے ـ پھر سلطنت کی ایک اہلیت کا انتظام کا ذکر چلا تو فرمایا کہ سلطنت تو بڑی چیز ہے ـ ہم لوگوں سے گھروں کا انتظام تو ہو ہی نہیں سکتا ـ میں اپنے گھر میں جس جگہ جو چیز رکھی ہوتی ہے ـ استعمال کے بعد جہاں سے اٹھاتا ہوں ـ بالالتزام وہیں رکھ دیتا ہوں ـ مثلا بکس دیا سلائی کا یا جانماز یا لوٹا میں نے تو اس پر ایک رسالہ لکھ دیا ہے ـ آداب المعاشرت اس میں ایسے انتظامی معاملات کو لکھ دیا ہے اس کو دیکھ لیا جائے ـ اس التزام میں یہ نفع ہے کہ کسی کو رائی برابر بھی تردد نہ ہو کہ یہ چیز اس طرح رکھی تھی اب اس کے خلاف رکھی ہے اور انتظام تو سچ یہ ہے کہ مسلمان ہی کا حق ہے ـ ظاہر ہے کہ جس کے پاس قرآن و حدیث و فقہ ہو وہ انتظام کر سکتا ہے یا کافر جاہل انتظام کر سکتا ہے ـ یقینا قرآن و حدیث جاننے والا صحیح انتظام کر سکتا ہے ـ قرآن پاک میں اور حدیث میں جا بجا انتظام کی تعلیم ہے مگر اس انتظام سے مراد فضولیات کا نہیں ـ ضروریات کا انتظام ہے ـ اسی سلسلہ میں ایک صاحب کو جواب میں فرمایا کہ اسلام کا بھی خاص انتظام اور ادب ہے ـ یعنی اسیا سنبھال کر کرو جو کسی پر بار اور توحش نہ ہو چناچہ فقہاء نے سب مواقع کے احکام منضبط فرمائے ہیں ـ غرضیکہ ہر بات اور کام مسلمان کا ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے دوسرے پر بار یا تنگی نہ ہو ـ
27 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ ہندو مسلم اتحاد کی مزمت

( ملفوظ 150) شریعت کا مخالف یا مجنوں ہے یا دجال

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر کسی کے ہوش و حواس درست ہیں اور پھر شریعت کے خلاف ہے تو وہ دجال ہے اور اگر ہوش و حواس درست نہیں تو مجنون ہے ـ یہی معیار ہے ـ

( ملفوظ 149)حضرت کا کمال استغناء

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت یہاں تو الحمدللہ اس پر مطلق نظر نہیں کہ کون معتقد ہے اور کون غیر معتقد خود بیعت مشکل سے کرتا ہوں ـ آنے کی اجازت مشکل سے دیتا ہوں ـ پھر یہاں آ کر بولنے کی اجازت نہیں ـ پرچہ دینے کی اجازت نہیں ـ غرض جس قدر ذریعے معتقد ہونے کے ہوتے ہیں ـ سب مفقود ہیں ـ یہاں پر جو بہت ہی بے حیا ہو گا وہی ٹھہر سکتا ہے ـ وگرنہ اگر ذرا بھی غیرت ہو گی ہر گز ٹھہر نہیں سکتا کون ذلت گوارا کرےـ

( ملفوظ 148)قبور سے استفادہ میں اذن ضروری نہیں

ایک مولوی صاحب نے استفادہ کیلئے اذن کی ضرورت پر عرض کیا کہ حضرت قبروں پر جا کر فیض لیتے ہیں ـ وہاں کس کا اذن ہوگا فرمایا کہ وہاں پر اذن کی ضرورت نہیں ـ یہاں تو تنگی کی وجہ سے بدون اذن کے استفادہ سے منع کیا جاتا ہے ـ وہاں پر تو عالم ملکوت ہے ـ وہاں پر تنگی و پریشانی کچھ نہیں تکلیف و راحت یہاں ہی ہے –