( ملفوط 147)نئی جگہ پر جا کر تین باتوں کی وضاحت کرنا

ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ آدمی نئی جگہ جائے تو یہ چند باتیں پہنچتے ہی کہہ دینی چاہئیں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں کیوں آیا ہوں ـ

( ملفوظ 146)دیہاتوں کا کلمہ حکمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ دیہاتی لوگ بعض دفعہ ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ بڑے بڑے علامہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ـ میں نے ایک عامی شخص سے جو کسی کے ساتھ راستہ میں جا رہا تھا ـ یہ سنا کہ بھائی جب بدی کرنے والا بدی کو نہیں چھوڑتا تو نیکی کو کیوں چھوڑتے ہو ـ اسی طرح ایک شخص سے تحریک خلافت کے زمانہ میں ریل میں سنا یہ شخص دیہاتی تھا ـ کسی سے کہہ رہا تھا کہ میاں ایک رہو اور نیک رہو پھر کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ـ کتنی زبردست علمی بات کو دو لفظوں میں بیان کر دیا ـ

( ملفوظ 145)سفارش سے خضر علیہ السلام کے واقعہ سے ایک نکتہ

ایک نو وارد صاحب نے حاضر ہو کر کسی معاملہ میں حضرت والا سے سفارش کی درخواست کی ـ حضرت والا نے فرمایا کہ سفارش کے متعلق ایک تمہید سنو ـ حضر علیہ السلام کے پاس جانے کا موسیٰ علیہ السلام کو حق تعالٰی کا حکم ہوا کہ جا کر علوم سیکھو ـ آپ حضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے پوچھا کون فرمایا موسیٰ کون کون موسیٰ فرمایا بنی اسرائیل کا موسیٰ ہوچھا کیسے آئے فرمایا ھل اتبعک علٰی ان تعلمن مما علمت عشدا ۔ یعنی میں علوم سیکھنے کیلئے تمھارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اتنے بڑے نبی اولعزم اور حضر سے فرماتے ہیں “” ھل اتبعک “” میں تمھارے ساتھ رہوں مجھ کو کچھ علوم سکھا دیجئے ـ یقینی بات ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے علوم کے سامنے خضر کے علوم کیا چیز تھے مگر خیر جو کچھ بھی تھے ان کے سیکھنے کی درخواست کی خیر یہ تو قصہ ہے مگر اس میں دیکھنا یہ ہے کہ اور کتنی عجیب بات ہے کہ اس گفتگو میں یہ نہیں فرمایا کہ میں خدا کا بھیجا ہوا ہوں فرماتے تو اعلٰی درجہ کی سفارش ہوتی سو اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ آجکل جو سفارش لکھا کر لے جاتے ہیں یا جا کر کسی کا نام لے دیتے ہیں ـ بعض اوقات اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے ـ حق یہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام ہی حقیقی علوم کے حامل ہیں دیکھئے یہ ظاہر فرمایا کہ میں حق تعالٰی کے ارشاد سے آیا ہوں ـ کیونکہ یہ سن کر حق تعالٰی کا ارشاد ہے پھر چوں چرا نہ کریں گے ـ آزادی نہ رہے گی چناچہ خضر علیہ السلام نے نہایت آزادی سے شرطیں لگا دیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بدون اذن کے کسی کی صحبت سے استفادہ حاصل نہیں کرنا چاہئے ـ نیز دوسرے کے پاس جا کر یہ نہ کہے کہ میں فلاں شخص کا بھیجا ہوا ہوں ـ

( ملفوظ 144)تدریس کے وقت غیر متعلق شخص کو نہ بٹھانا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انتظام کی ہر چیز میں ضرورت ہے ـ میں درس کے وقت مدرسین کے پاس ایسے شخص کو نہیں بیٹھنے دیتا جو شریک درس نہ ہو ـ میں جس وقت کانپور میں مدرس تھا میرا یہی معمول تھا ـ اس میں خرابی یہ ہے کہ استاد کو تو یہ فکر کوئی بات تقریر میں کتاب کے خلاف نہ ہو جاوے اور شاگرد کو یہ فکر کہ کوئی سوال ایسا نہ ہو کہ جس سے ہم بد استعداد خیال کئے جائیں تو دونوں مشوش ہو جاتے ہیں – آج کل مدارس میں قطعا اس کا انتظام نہیں کیا جاتا – یونہی وقت کیا جاتا ہے ـ

( ملفوظ 143) معاصی سے نفرت

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ معاصی سے تو نفرت ہونا چاہیئے مگر عاصی سے نفرت نہ ہونا چاہئے حاصل یہ کہ فعل سے نفرت ہو فاعل سے نفرت نہ ہو ـ جیسے حسین اپنے منہ کو کالک مل لے تو کالک کو تو برا سمجھیں گے مگر اس کو گوارا ہی سمجھیں گے ـ اسی طرح مومن میں برائی عارضی ہے اس لئے اس کو حقیر نہ سمجھیں ـ ہاں برے فعل کو برا سمجھیں ـ

( ملفوظ 142 )تمدن کی ترقی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بیعت میں اگر ضرورت کا درجہ سمجھے تو ٹھیک البتہ مصلحت کا درجہ سمجھنا ٹھیک ہے وہ بھی جب کام کیا جاوے ورنہ بدون کام کے مطلق بیعت کو آخرت میں نجات کا ذریعہ سمجھنا محض جہل ہے ـ

( ملفوظ 141 )مخالف کی بے حسی پر اہل حق کا طریقہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل اور اہل حق کے مذاق طبعی میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے ـ ایک صاحب کانپور سے میرے پاس آئے تھے ـ یہ وہ صاحب تھے جو مجھ کو اور ہماری ساری جماعت ہو گالیاں دیا کرتے ـ کانپور کے بلوہ میں بھی ماخوذ تھے ـ یہ وہ صاحب تھے جو مجھ سے سفارش کرانا چاہتے تھے میں نے سفارش لکھ دی ـ میرے ایک دوست وہاں پر تحقیقات کے لئے مقرر تھے ـ ان کو لکھ دیا کہ واقعہ کی حقیقت کو معلوم کرنے کے بعد جو عقلا و نقلا مصلحت ہو وہ کریں مطلب یہ تھا کہ بدون تحقیق زیادتی نہ ہوـ اس وقت یہ خیال پیش نظر ہو گیا کہ بے بس ہیں ـ بے چارہ ہیں اور ایسے وقت اکثر یہ ہی خیال آ جاتا ہے ـ پس یہ فرق ہے باطل اور اہل حق میں اہل باطل کو تو ایسے موقع پر انتقام کا انتظار رہتا ہے اور اہل حق ڈرتے ہیں کہ یہ وقت انتقام کا نہیں ـ اہل حق قدرت کے وقت تو نرم ہوتے ہیں اور عدم قدرت کے وقت غصہ آتا ہے اور اہل باطل اس کے عکس ہیں ـ

( ملفوظ 140 ) مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بد نظمی

ایک صاحب کو سوال کے جواب میں فرمایا کہ مسلمانوں کی کمزوری کا سبب انکی بد نظمی ہے ـ اگر ان میں نظم ہو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے ـ دوسری قوموں میں نظم ہے وہ اس کی بدولت کامیاب نظر آتی ہیں ـ بحمداللہ اب بھی مسلمان اس قدر کمزور نہیں مگر ساری کمی نظم کی ہے – بدون انتظام کے کچھ نہیں ـ ہو سکتا اگر نظم ہو تو ساری قومیں ان کو بیٹھی دیکھا کریں ـ

( ملفوظ 139 ) شہادت کے معتبر ہونے کی شرط

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ جو علی الاطلاق مشہور ہے کہ ہر معاملہ میں دو شہادت کافی ہیں – فی نفسہ تو صحیح ہے مگر اسکا اطلاق غلط ہے خود شہادت کے شہادت ہونے میں یہ شرط ہے کہ مدعی قاضی کے یہاں دعوی کرے اور قاضی مدعی علیہ کو طلب کرے ـ اس وقت جو شہادت بر سر اجلاس ہوگی وہ معتبر ہوگی اور بدون اس کے دو تو کیا اگر دس آدمی بھی کہا کریں تو حجت شرعیہ نہیں حتی کہ وہ شہادت بھی معتبر نہیں جو حاکم وقت یعنی قاضی کے مکان پر ہوا ـ اجلاس پر نہ ہو ـ غرض شہادت عدالتی معتبر ہے ـ خانکی شہادت حجتہ نہیں دیانات میں معتبر ہے مگر احکام قضا میں معتبر نہیں علی الاطلاق حجیت کا اعتقاد غلط ہے ـ اسی طرح دعوی میں شرط ہے ـ مدعی ذاتی علم کی بناء پر دعوی کرے محض سنی ہوئی روایت پر دعوی نہیں کر سکتا ـ اگر کرے گا مسموع نہ ہوگا ـ حتیٰ کہ سنی ہوئی روایت پر دعویٰ کرنے میں قاضی مدعا علیہ کو طلب نہ کریگا ـ

( ملفوظ 138 )روایت واقعہ میں علماء تک بے احتیاطی کرتے ہیں

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ روات کے اس معاملہ میں میں بہت محتاط ہوں ـ میں تو واقعات میں علماء تک کی روایت کا بھی اعتبار نہیں کرتا ـ میرا اعتقاد یہ ہے کہ یہ فتوی تو صحیح دیں گے مگر واقعات میں اکثر ان کا بھی معمول احتیاط کا نہیں ـ اس پر چاہے کوئی برا نہ مانے یا بھلا جو بات تھی صاف عرض کر دی ـ