( ملفوظ 137 ) نا گوار واقعات کی حکمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آخرت کا شوق عادۃ بدون دنیا کی نفرت کے نہیں ہو سکتا اور دنیا سے نفرت بدون ناگور حوادث کے نہیں ہوتی ـ یہ حق تعالی کی رحمت ہے کہ ایسے اسباب پیدا فرمادیتے ہیں ـ کہ آدمی کو خود بخود دنیا سے نفرت ہوجاتی ہے ـ اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ یہ تحریک حاضر جس میں مجھ کو برا بھلا کہا گیا ـ میرے نقصان کا سبب نہیں ہوئی بلکہ نفع کا سبب ہوئی چہار طرف سے نظر ہٹ کر ایک ہی طرف ہوگئی ـ اس ہی میں ان لوگوں کو اپنا محسن سمجھتا ہوں ـ جنہوں نے مجھ پر سب و شتم کیا یہ دولت ان ہی کی بدولت نصیب ہوئی ـ یہی وجہ ہے کہ میں سب کو دل سے معاف کر چکا ـ کنکریوں کے بدلے مجھ کو جوہرات عطا فرمائے گئے ـ حق تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ مجھ جیسے نا کارہ کوتاہ عمل پر اپنا فضل فرمایا ـ
26 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ

( ملفوظ 136 ) طریق سے بے خبری کی وجہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل طریق سے بے خبری کا سبب جہل ہے ـ مسائل بدون علم کے معلوم نہیں ہو سکتے ـ مگر اس کا اہتام بلکہ ضرورت کا اعتقاد بھی آج کل مقود ہے ـ

( ملفوظ 135 ) نری کتابیں کافی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب تک کسی فن میں مہارت نہ ہو – نرمی کتابیں کام نہیں دے سکتیں ـ مثلا نرمی کتاب دیکھ کر مسہل نہیں لے سکتا ـ سو نرمی کتاب دیکھ کر مسئلہ کیسے معلوم کر سکتے ہے ـ اس لئے ضرورت ہے کہ پہلے استاد س فن کو حاصل کرے ـ بڑھئی کا فن ان علوم کے سامنے کوئی مشکل چیز نہیں مگر بدون سیکھے ہوئے ـ بسولہ بھی ہاتھ میں نہیں لے سکتا ـ اگر لے گا اپنے ہی مارے گا ـ تلوار ہے یوں ہی تھوڑا ہی کاٹ دیتی ہے ـ استاد کی نرمی کتاب سے کام لینے کے متعلق واقعہ سن لیجئے ایک شخص یہاں پر آئے تھے ـ میرے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی ـ دو رکعت پر سلام پھیر دیا ـ میں نے پوچھا تو کہتے ہیں کہ مسافر کے واسطے قصر ہے – یہ بھی بیچاروں کو خبر نہ تھی کہ مقیم امام کے پیچھے نماز پوری پڑھنی چاہیئے ـ ایک میرے دور کے عزیز ہیں ـ بوڑھے ہوگئے ہیں چار سنتوں میں ہمیشہ دو رکعت بھری پڑھی اور دو خالی پڑھتے ہیں بتلانے پر کہا کہ مجھ کو معلوم نہ تھا اسی طرح ایک شخص نے مغرب کی نماز دو رکعت پڑھی اس لئے کہ مسافر تھے ـ
26 ذی الحجہ 1350 ھ بوقت صبح یوم سہ شنبہ

( ملفوظ 134 ) موت کی تیاری اور وحشت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بر ہو بحر ہو حضر ، ہو سفر ہو ، پہاڑ ہوں ، موت کے لئے سب یکساں ہے ـ مگر اس کے نہ علم میں ہے نہ قدرت میں سو بعض لوگ جو زندگی ہی میں اپنے لئے قبر وغیرہ اہتمام کر لیتے ہیں ـ محض لغو ہے کیا خبر کہ کہاں موت واقع ہو اور کس طرح ہو موت کے لئے اس فضول اہتمام کی ضرورت نہیں ـ البتہ بعد الموت کے جو واقعات پیش آویں گے ـ اس کے لئے ہر وقت تیار رہنے اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے ـ اسی طرح بعض لوگ ان رسمی اہتمام کرنے والوں کے مقابلہ میں موت سے اس قدر خائف ہیں کہ اسکا نام لینا تک گوارا نہیں کرتے ـ یہ بھی مہمل بات ہے وہ تو نا گریز ہے ـ شاہی زمانہ میں قلعہ کے ایک دروازہ کا نام خضر دروازہ رکھا گیا تھا جس سے جنازہ گزرتا تھا گو نام سے بھی وحشت تھی ـ اسی ترح ایک ضعیف العمر عورت جس کے نہ منہ میں دانت تھے ـ نہ ماتھے پر آنکھ تھی ، کمر میں خم تھا ، اس کو کسی لڑکی نے کہہ دیا کہ بڑھیا خدا کرے تو مرجا تو اس کی شکایت اپنی ایک ہم عمر بڑھیا سے کی مگر الفاظ یہ تھے کہ فلانی یوں کہتی ہے کہ بڑھیا تو یوں ہو جا ( مراد مرجانا ہے بڑھیا نے موت کا نام نہیں لیا ـ اس قدر وہشت مگر وہ ایسی وہشت کی چیز نہیں کہ مؤمن کیلئے تو عقلا محبوب چیز ہے اس لئے کہ اسکے وقوع کے بعد ہی محبوب تک رسائی ہو سکتی ہے ـ یہ تو مثل پل کے ہے کہ اس پار سے اس پار تک پہچاتا ہے ـ اسی لئے کہا گیا ہے ـ الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب ۔ تو اتنی وحشت محض بے معنی ہے اس وحشت کا جواب ایک دریا کے سفر کرنے والے ملازم نے جواب دیا ـ اس سے کسی نے دریافت کیا کہ تمھارا دادا کہں مرا ، کہا دریا میں پوچھا باپ کہاں مرا ، کہاں دریا میں ، کہا کہ تم پھر بھی دریا سے نہیں ڈرتے ہر وقت دریا میں رہتے ہو اس نے جواب دریافت کیا کہ تمھارا دادا اور باپ کہاں مرے کہا کہ گھر میں کہا کہ بڑے نڈر ہو پھر بھی تم اسی گھر میں رہتے ہو ـ

( ملفوظ 133 ) تدبر اور تقدیر کا مسئلہ

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ مسئلہ تدبیر اور تقدیر کا ایسا ہے کہ اہل علم کو بھی اس میں زائد از ضرورت کلام کرنیکی اجازت نہیں ـ مگر اس سے جو اصل مقصود ہے یعنی تفویض ـ وہ البتہ دستور العمل بنانے کے قابل ہے ـ اسی کو ایک بزرگ نے سوال کے جواب کی صورت میں لکھا ہے ـ سوال یہ ہے کہ جب تقدیر کے سامنے تدبیر کوئی چیز نہیں تو تدبیر کع مشروع کیوں فرمایا گیا جواب یہ دیا کہ اسی واسطے مشروع فرمایا گیا کہ یہ تدبیر کریگا اور تقدیر اس کو توڑے گی پھر کرے گا پھر کرے گا پھر توڑے گی اس اعتقاد کو پختہ کرنے کے لئے کہ تقدیر کے مقابلہ میں تدبیر کوئی چیز نہیں ـ تدبیر کو مشروع کیا گیا یہی حاصل ہے تفویض کا عجیب لطیف جواب ہے اور میں کہتا ہوں کہ اس سے جو بعض نے دعا کو بھی بیکار سمجھ لیا یہ محض غلط ہے یہ کسے معلوم ہوا کہ دعا بیکار ہے صرف اس وجہ سے بیکار سمجھ لیا کہ جو مانگا تھا وہ نہیں ملا ـ سو یہ مقدمہ ہی غلط ہے ـ یہ کیا ضرور ہے کہ جو مانگے وہی مل جاوے ـ مانگنے والا اپنے حوصلہ اور ضرورت کے موافق سوال کرتا ہے مگر دینے والا اپنی مصلحت و حکمت کے موافق دیتا ہے ـ خواہ وہی چیز دیدے یا اس کا نعم البدل دیکھو ـ بعض اوقات بچہ پیسہ مانگتا ہے ـ باپ انتہائی شفقت کی بناء پر اس کو روپیہ نکال کر دے دیتا ہے ـ مگر اس پر کوئی عاقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بچہ اپنے مقصد میں ناکام رہا ـ یہی کہا جاوے گا کہ یہ اعلٰی درجہ کا کامیاب ہے مگر وہ بچہ اپنی کم عقلی اور روپیہ کی حقیقت سے بے خبر ہونیکی وجہ سے اس روپیہ سے خوش نہیں ہوا ـ اس لئے اس کے لینے سے اعراض ہے روتا چلاتا ہے ـ اینٹھتا ہے اور پیسہ ہی طلب کرتا ہے تو کیا اس کا ایسا کرنا کم عقلی پر دال نہ ہوگا ـ اسی طرح یہاں پر سمجھ لیجئے کہ مثلا دنیا کی کوئی حاجت خدا سامنے پیش کی اس کی دعاء کی یا اس کے حصول کے لئے ظاہری تدبیر کی کہ وہ بھی عملی دعا ہے ـ حق سبحانہ تعالی نے بجائے اس حاجت کے اس سے بہتر چیز عطاء فرمائی جسکو یہ نہیں سمجھا کہ یہ عطیہ اس سوال پر ہوا ہے یا کسی سماوی و اراضی آنیوالی بلا کو روک دیا گیا ـ یہ بھی تو کامیابی ہے یا کسی نیک عمل کی توفیق عطا فرمادی جو سب سے اعلی درجہ کی کامیابی ہے اگر ناکامی کے یہ معنی ہیں اور اس کو ناکامی سمجھتے ہو تو فی الحقیقت یہ سمجھتا البتہ ناکامی کیا بلکہ کم نصیبی بدبختی ، کم عقلی ، کم فہمی ہے ـ بعض لوگ چند روز دعاء کر کے چھوڑ بیھٹتے ہیں کہ ثمرہ تو مرتب ہوتا ہی نہیں ـ کیا دعا کریں – میں کہتا ہوں کہ اچھا پھر اور کونسا تلاش کیا ہے ـ جہاں ثمرہ مرتب ہوگا اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کے پاس صندوق کی کنجی ہے – اس سے کہتے ہیں کہ قفل کھول دے ـ وہ کسی مصلحت سے نہیں کھولتا ـ پھر دوبارہ کہتے ہیں وہ تب بھی نہیں کھولتا مگر صندوق جب بھی کھلے گا اسی کے کھولنے سے کھلے گا ـ اس لئے کہ اس قفل کی کنجی اسی کے پاس ہے ـ بس دعاء کی مثال ایسی ہی حق سبحانہ تعالی ہی کے ہاتھ میں سب کچھ ہے – ان ہی کی عطاء سے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہو ـ بدون ان کی عنایت اور رحمت کاملہ کے دوسری کوئی سبیل کامیابی کی ہی نہیں مگر صرف اتنی بات ہے کہ بعض مرتبہ نہ کھلنا ہی مصلحت ہوتا ہے تو اس سے مایوسی نہ ہونا چاہیئے ـ دوسری مثال مثلا مل کا پھاٹک گاڑی آنے کے وقت بند ہو جاتا ہے ـ کسی نے یہ کہہ دیا آٹھ بج کر دس منٹ پر کھلنے کا معمول ہے ـ یہ دوسری طرف جانے کے لئے اس کے انتظار میں ہے مگر جب وہ وقت آیا کسی مصلحت سے نہیں کھلا تو کیا وہ اس کا کوئی نوکر ہے ممکن ہے کہ ابھی ریل نہ آئی ہو ـ اس لئے پھاٹک بند ہے ـ سو ایسے میں اگر موٹر والا آجائے اور کہے کہ کھول دو سو بعض دفعہ چوکیدار رعایت کر کے کھول دیتا ہے اور اسی وقت اوپر سے ریل آجاتی ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ نہ کھولنا ہی حکمت تھا کھولنا غضب ہو گیا ـ

( ملفوظ 132 ) ایک دن ایک مہینہ کا ہونے کی صورت میں پانچ نمازوں کا حکم

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک مقام ہے ـ وہاں پر سال بھر میں ایک دن ایک مہینہ کا اور ایک رات ایک مہینہ کی ہوتی ہے ـ وہاں پر اوقات نماز کے متعلق کیا حکم ہے ـ نماز کس طرح پڑھی جائے گی فرمایا کہ بعض علماء نے اس کا جواب دیا ہے کہ وقت کا اندازہ کر کے اور حساب لگا کر نمازیں ادا کریں ـ ان علماء نے یہ حکم اس سے سمجھا ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب دجال آئے گا تو ایک دن سال بھر کا ہوگا ـ اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت کا اندازہ کر کے نماز ادا کرو اور بعض علماء نے اس مقام پر اس دن میں پانچ ہی نمازوں کا حکم دیا ہے اور یوم دجال پر قیاس کا جواب دیا ہے کہ وہ عارضی بات ہے اور یہاں پر دوام ہے لہزا قیاس مع الفارق ہے پھر فرمایا کہ لوگ ان اختلافات سے گھبراتے ہیں اور علماء پر اعتراض کرتے ہیں ـ مگر یہ گھبرانے کی چیز نہیں ـ معلوم بھی ہے کہ اختلاف کا ہونا دلیل ہے ـ اہتمام تحقیق کی اور اختلاف کا نہ ہونا دلیل ہے ـ عدم اہتمام کی اور بجز اسلام کے اور کسی مزہب میں یہ تحقیق نہیں ـ علماء اسلام نے ہر بات پر بحث کر کے حقیقت کو اپنی قدرت کی حد تک صاف کر دیا ہے ـ دوسرے مزہب میں ہے ہی کیا جس کی تحقیق کریں ـ اور پھر تحقیق سے اختلاف ہو ـ ایک مثال عرض کرتا ہوں دو وکیلوں کی پاس مقدمہ لے جائیے اگر ان میں شان تحقیق ہوگی ـ ضرور اختلاف ہوگا ـ دو طبیب حاذق کے پاس مریض کو لے جائیے اگر ان میں شان تحقیق ہوگی ضرور اختلاف ہو گا بعض بد عقل ہر اختلاف کو مزموم سمجھتے ہیں جو بات خوبی کی ہے وہ بد فہموں کے نزدیک نقص کی ہے ـ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت احکام میں قواعد بیان کر دیئے ـ جزئی احکام نہیں بتلائے ـ تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ضرور اختلاف ہوگا جیسے پارلیمنٹ میں عمر کے متعلق الگ الگ احکام نہیں تجویز کئے جاتے ـ کلیات تجویز کر دئیے جاتے ہیں ـ انہیں کے انطباق کے متعلق ماتحت عدالتوں میں اور وکلاء میں اختلاف ہو جاتا ہے ـ

( ملفوظ 131 )معافی کا مطلب تعلقات کی بحالی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت کے زمانہ میں مجھ پر عنایت فرماؤں نے بے حد عنایت فرمائی ـ اس کے بعد ان ہی لوگوں کی درخواست معافی کے خطوط بھی بکثرت آئے ہیں میں نے لکھ دیا معافی تو میرے یہاں ارزاں ہے اس لئے میں بھی خطادار ہوں ـ اللہ کا بھی بندوں کا بھی ـ میرا جی بھی اپنی معافی کو چاہتا ہے ـ اس لئے میرے یہاں معافی ارزاں ہے لیکن خصوصی تعلقات بہت گراں ہیں ـ وہ نہ ہوں گے اور تعلقات اور چیز ہیں اور معافی اور چیز معافی کی حقیقت تو یہ ہے کہ صاحب حق انتقام نہ لے نہ دینا میں نہ آخرت میں ـ دنیا میں یہ کہ غیبت کرے نہ بد خواہی کرے نہ اس کے نقصان سے خوش ہو میں یہ کہ اس کی عقوبت پر راضی نہ ہو اور تعلقات اس کے علاوہ دوسری چیز ہے ـ
25 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ

( ملفوظ 129 ) زمین دار یا آسمان دار

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمیندار بہت پریشان ہیں مگر جو آسمان دار ہیں وہ اس زمانہ میں بھی مطمئن ہیں ـ اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ آدمی کو آسمان دار ہونا چاہیے ـ

( ملفوظ 130 )خلائی تحقیقات سے معراج کا ثبوت

ایک صاحب نے عرض کیا کہ آج کل یورپ میں اس کی کوشش کر رہے ہیں کہ مریخ ستارہ تک پہنچیں اور وہاں کے حالات معلوم کریں فرمایا کہ میں نے بھی ایک اخبار میں دیکھا تھا میں تو دیکھ کر یہ کہا کہ جس روز ایسا ہوگا انشاءاللہ تعالی دو رکعت نماز نفل بطور شکر ادا کروں گا ـ کیونکہ آخر یہ بھی تو ان ہی کو طے کر کے مریخ تک پہنچیں گے جنکو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانع معراج جسمانی کہتے ہیں ـ تعجب ہے کہ ان کی کوئی تکزیب نہیں کرتا اور شریعت کی تکزیب کرنے کو تیار ہیں ـ ہوائی جہاز کے ذکر پر فرمایا کہ اب حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر اعتراض کا منہ نہیں رہا ـ اس بدفہمی کا کچھ علاج ہے کہ جو یہ کریں وہ ہوجائے اور خدا جو چاہئے وہ نہ ہو کس قدر یہ ظلم عظیم ہے کہ اگر نظر عمیق سے دیکھا جائے تو یہ تمام صنعتیں بھی حق تعالی کی ہی قدرت کے کرشمے ہیں ـ اس لئے کہ جن دماغوں کی یہ ایجاد ہیں ـ وہ دماغ بھی تو ان کے ہی بنائے ہوئے ہیں ـ مگر باوجود دعوے عقل کے اتنا نہیں سمجھتے میں تو کہا کرتا ہوں کہ یہ لوگ عاقل نہیں آجکل ہیں ـ عقل کی ایک بات بھی نہیں ـ ہر وقت اکل کی فکر ہے ـ ان مادیات میں پڑ کر خدا کو آخرت کو سب کو بھلا دیا ـ فرعون ہو گئے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ وہ فرعون بے سامان تھا یہ با سامان ہیں ـ اس کے پاس اس قدر تکبر کے سامان کہاں تھے جو ان کے پاس ہیں اور عجیب نہیں اس جہاز پر بھی تباہی آوے ـ جس سے مریخ تک پہچنا چاہتے ہیں ـ جیسے ایمڈن پر آئی تھی ـ ان چیزوں کی وجہ سے تکبر پیدا ہو جاتا ہے ـ کہ ہم غالب ہیں یہ خیال خدا کے نزدیک نہایت مبغوض اور نا پسندیدہ ہے ـ اکثر ساتھ کے ساتھ توڑ دیتے ایک صاحب نے عرض کیا کہ ایجاد اور صنعتوں اور کاریگری پر نازاں ہیں ـ حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ وہاں گری کہاں چھلکے ہی چھلکے ہیں ـ

( ملفوظ 128 )دوسروں کے برا کہنے کی کیا پرواہ ؟

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جاہ کا مرض بھی عام ہو گیا ہے ـ رات دن لوگ اسی کی فکر میں ہیں کہ کوئی برا نہ کہے ان باتوں میں کیا رکھا ہے کام میں لگو خدا سے صحیح تعلق پیدا کرنے کی فکر کرو میں تو کہا کرتا ہوں کہ ایک خدا کو اختیار کر لوگوں نے پچاس خدا اختیار کر رکھے ہیں ـ کہیں نفس برادری کہیں قوم ، کہیں جاہ ، کہیں عزت ، کہیں روپیہ ، کہیں کچھ کہیں کچھ سو سب کو راضی نہیں کر سکتے ـ ایک کو ہر طرح پر راضی رکھ سکتے ہو ـ بس ایک کو لے لو اسی کو فر ماتے ہیں ـ
مصلحت دید من آنست کہ یاراں ہمہ کار بگزار رندو خم طرہ یا رے گیرند ( میرے نزدیک تو مصلحت یہ ہے کہ لوگ سارے کام چھوڑ کر محبوب کی زلف کے اسیر ہو جاویں )
اور مسلمان کی حق تعالی کے ساتھ یہ شان ہونی چاہئے ـ
ہمہ شہر پرز خوہاں منم و خیال ماھے چہ کنم کہ چشم یک بین نکند بہ کس نگا ہے
( سارا شہر حسینوں سے بھرا ہوا ہے مگر میں تو اپنے چاند کے خیال میں ہوں کیا کروں میری آنکھ جو اس یکتائے زمانہ کو دیکھ چکی ہے کسی کی طرف التفات ہی نہیں کرتی 12 ) اور یہ مذہب ہونا چاہیے ـ
دلا رامے کہ داری دل درو بند دگر چشم از ہمہ عالم
( تمہارا جو محبوب ہے اسی سے دل لگائے رہو اور باقی سارے عالم کی طرف سے آنکھ بند کر لو 12 )
غرض نہ کسی کی مدح سے اس کا کچھ بڑھتا ہے نہ کسی کی برائی سے کچھ گھٹتا ہے ـ پھر ان فضولیات میں پڑ کر کیوں آدمی اپنا وقت بیکار برباد کرے ـ
قریب ہی کا واقعہ ہے کہ تحریک خلافت کے زمانے میں لوگوں نے مجھ پر کس قدر سب و شتم کیا ـ میرا کیا بگڑ گیا ـ بلکہ ہر طرح کا نفع ہی ہوا اور اسی لئے میں نے لوگوں کے معافی چاہئے سے قبل ہی سب کو معاف کر دیا تھا ـ اور اللہ تعالی سے یہ عرض کر دیا کہ میری وجہ سے مواخزہ کسی پر نہ ہو ـ اس لئے کہ اگر ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے تو میرا کیا نفع اور معاف کرنے میں تو امید نفع کی بھی ہے کہ میں اپنا حق لوگوں کو معاف کردوں ـ شاید اللہ مجھے معاف فرمادیں ـ اس زمانہ میں عجب ایک ہڑ بونگ مچا رکھا تھا ـ قسم قسم کی دھمکیاں دیجاتی تھیں ـ سمجھتے تھے کہ دھمکیوں سے اپنا مسلک بدل دے گا ـ جیسے خود ہیں ـ ویسا ہی دوسروں کو سمجھتے ہیں ـ اپنے اوپر دوسروں کو قیاس کرتے ہیں ـ اسی زمانہ میں ایک مولوی صاحب دہلی سے یہاں پر آئے تھے ـ وہ ان مسائل کے متعلق خلوت میں کچھ بات کرنا چاہتے تھے ـ میں نے کہا کہ میں خلوت میں گفتگو نہ کروں گا کیونکہ اس میں میرے لئے خطرہ ہے کہ مشتبہ ہو جاؤں گا اور میں اس خطرہ کے لئے تیار نہیں اور جلوت میں آپکے لئے خطرہ ہے ـ مگر آپ اس خطرہ کے لئے تیار ہو چکے ہیں ـ پر کوئی گفتگو نہیں کی ـ ایک مولوی صاحب پانی پت میں فرمانے لگے تم کو واقعات معلوم نہیں ـ ورنہ ہماری مواقفت کرتے ـ میں نے کہا آپ کو تو معلوم ہیں ـ آپ مجھ کو خط و کتابت سے مطلع کر دیں کہنے لگے خط و کتابت میں خطرہ ہے میں نے کہا کہ میری فکر نہ کیجئے جب کوئی گڑبڑ ہوگی میں کہہ دوں گا کہ کسی دشمن نے مجھ کو لکھ دیا میں کیا جانوں غرض آپ بے فکر ہو کر خط و کتابت کیجئے ـ پس رہ گئے ـ