(ملفوظ 478)فرشتہ صفت کی صحیح تعریف :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج گلا تو بزرگ وہ سمجھا جاتا ہے جو فرشتہ صفت ہو مطلب یہ ہے کہ باگوار بات اس کو ناگوارنہ ہو غصہ کی بات پر اس کو غصہ نہ آئے اس کو کہتے ہیں کہ فرشتے صفت ہیں لیجئے فرشتے کی صفت بھی سن لیجئے ۔ حدیث شریف سن لو ترمذی کی حدیث ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ منظر قابل دیکھنے کا تھا کہ فرعون جب ڈوبنے کے وقت اللہ تعالٰی پر ایمان لا رہاتھا اور میں اس کے منہ میں کچڑٹھونس رہاتھا کہ اس کے منہ سے یہ نکلے اس حدیث کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ فرشتے کو بھی غصہ کے مستحق پر غصہ آیا ۔

(ملفوظ 477)آداب ہدیہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب یہاں پر آئے پرتکلف آدمی تھے ظہر سے عصر تک بیٹھے رہے کچھ نہیں بولے بعد نماز عصر کے پوچھتے پھرنے لگے کہ میں کچھ بطور ہدیہ کے لایا تھا کس کے ہاتھ گھر بھیجوں جاننے والوں نے ان سے کہا کہ ایسا مت کرنا بیچاروں کو دینے ہی میں پریشانی ہورہی تھی پھر فرمایا ہدیہ دینا پڑا مشکل ہے لینا تو بہت آسان ہے لیا جیب میں رکھ لیا جیسے ایک پیر جی کا مقولہ ہے کہ کھانا کون مشکل ہے منہ میں رکھا نگل لیا منہ میں رکھا نگل لیا ، اسی طرح لیا جیب میں رکھ لیا مگر دینا بڑا مشکل ہے اس لئے کہ اس میں یہ رعایات کرنی پڑتی ہیں کہ جس کو ہدیہ دیتے ہیں اس کو شرمندگی نہ ہو حجاب نہ ہو اور کسی عارض کے سبب بے موقع بے محل نہ ہو سب آداب ہیں ہدیہ کے ایسے ہی عورت کے آداب ہیں آج مولانا شیخ محمد صاحب کا حکایت سنی ہے ۔ سہارن پور میں ایک مرتبہ کسی شخص نے دعوت قبول کرلی بزرگ تھے شفقت سے قبول کرلی بعد کھانا کھانے کے وعظ کی درخواست کی بہت باگوار ہوا مگر مولانا غصہ میں غل شور نہ کرتے تھے بہت ہی متانت اور وقار سے رہتے تھے مگر آٹھ آنہ نکاح کرپیش کردیئے عرض کیا کہ حضرت یہ کیا فرمایا کہ یہ کھانے کی قیمت ہے جس کے زور پرعظ کی درخواست نہایت ہی بے محل تھی ۔

(ملفوظ 476)آہستہ بولنے پر تنبیہہ :

ایک صاحب کے بہت آہستہ بولنے پر جس سے سنائی بھی نہیں دیا متنبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ لوگ کہتے ہونگے کہ کس قصائی سے پالا پڑا میں کہتا ہوں کہ کن بیلوں سے پالا پڑا قصائی اور بیلوں کا جوڑ بھی ہے ۔

(ملفوظ 475)معاملات میں مساوات نہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک زمانہ تک اس خیال میں رہا کہ معاملات میں سب میں مساوات ہونا چاہئے مگر حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی مساوات نہ فرماتے تھے ۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ خود مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ساتھ جو معاملہ لطف و عنایات کا فرماتے تھے دوسروں کے ساتھ نہ فرماتے تھے ۔
کما فی جمع الفوائد عن الترمذی عن انس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یخرج علی اصحابہ من المھاجرین الانصاری لایرفع طرفہ اولا الا الیٰ ابی بکر و عمر کانا ینظر ان الیہ وینظر الیھما ویتبسمان الیہ ویتبسم الیہما حاصۃ والیٰ سائراصحابہ عامۃ
( حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف تشریف لاتے تھے جن میں مہاجر بھی ہوتے تھے اور انصار بھی ۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اول حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ہی کی طرف نظر فرماتے تھے اور وہ دونوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر رکھتے تھے اور حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھتے رہے تھے اور وہ دونوں تبسم کرتے رہتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تبسم فرماتے رہتے تھے یہ سب حالت خاص طور پر ان دونوں کے ساتھ ہوتی تھی اور باقی صحابہ کے ساتھ عام طور پر ہوتی تھی )
جب حضور نے اس کا اہتمام نہیں فرمایا تو ہم کیا چیز ہیں ۔

(ملفوظ 474) واسطہ بننے پر کوئی راضی نہ ہونا

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ جن صاحب کو ان غلطی پر یہ فرمایا تھا کہ کسی واسطے سے گفتگو کرو کوئی شخص واسطہ بننے پر راضی نہیں ہوتا فرمایا اگر کوئی راضی نہیں تو مجھ کو اس ہی کی اطلاع کردیں میں کوئی اور طریق اختیار کروں گا ایک ہی طریقے پر مدار تھوڑا ہی ہے۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ واسطہ بننے کے لئے کسی کو بالالتزاب منتخب کرلیا جاوے مگر اس کو پسند نہیں کرتا اس میں خرابی یہ ہے کہ جو اس طرح سے واسطہ بنیں گے ان کو مقرب اور مخصوص ہونے کا خیال پیدا ہوجائے گا اور دوسروں پر یہ اثر ہوگا کہ اس کی پرستش ہونے لگے گی ۔ بعضے پیروں اور مشائخ کے یہاں یہ بلا موجود ہے ۔ الحمد اللہ یہاں پر یہ بات بھی نہیں ۔

(ملفوظ 473) ایک صاحب کی اعانت کی حد :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ رحم دلی کی وجہ سے نئے آنے والوں کو یہاں کے معمولات و قواعد کے متعلق مشورہ دیتے ہیں مگر ان میں بعض ایسے بدفہم ہوتے ہیں کہ ان پرمشورہ سے برا اثرہوتا ہے اب اس میں انتخاب بڑا مشکل ہے کہ کون اہل ہے مشورہ کا اور کون نہیں اس لئے اصلح یہی ہے کہ خود کسی کو مشورہ نہ دیا جاوے البتہ اگرکوئی خود پوچھے اس کو اطلاع کردی جاوے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا تھا کہ مشورہ دے دینے میں مسلمان کی اعانت ہے فرمایا کہ اس اعانت کی بھی ایک حد ہے وہ یہ کہ اگر کوئی خود پوچھے اس کو اطلاع کردی جاوے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا تھا کہ مشورہ دے دینے میں مسلمان کی اعانت ہے فرمایا کہ اس اعانت کی بھی ایک حد ہے وہ اگر نااہل کو مشورہ دیا تو وہ اعانت کہاں وہ تو مضرت کا سبب ہوگا ۔ اور بعض احوال میں مشہور دینے والے کے لئے بھی مضرت سمجھتا ہوں یعنی اگر اس کو یہ گمان ہوجائے کہ مجھ کو مشورہ دینے کے لئے واسطہ بنانے کے لئے منتخب کیا گیا ہے تو اس کا دماغ خراب ہوگا کہ اپنے کو مقرب سمجھنے لگے گا اس لئے اسلم یہی ہے کہ سب کہ اپنے اپنے خیال پر چھوڑ دینا چاہئے کوئی کسی کے معاملہ میں دخل ہی نہ دے باقی سفارش جو مشورہ سے بھی زیادہ بحمداللہ میرے یہاں ہے ہی نہیں اس کا بلکل ہی سد باب ہے اور سمھنے کی بات ہے کہ سفارش کی تو وہاں ضرورت ہے جہاں مواخذہ سے انتقام مقصود ہو یہاں انتقام تھوڑا ہی مقصود ہے محض اصلاح مقصود ہے وہاں سفارش کے کیا معانی کیا یہ مقصود ہے کہ اصلاح نہ کرو اصلاح میں سفارش نہ ہونے کی دلیل ایک حدیث ہے وہ یہ ایک عورت نے چوری کی تھی اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حد جاری کرنے کا حکم فرمایا اس کے متعلقین نے حضرت اسامہ سے سفارش کرنے کے لئے کہا حضرت اسامہ کو ایک خصوصیت تھی انہوں نے حضور کی خدمت میں عرض کردیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت ناخوش ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم حدود میں سفارش کرتے ہیں اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتیں تو ان کا بھی ہاتھ کٹوا دیتا ۔
اس عورت کا نام بھی فاطمہ تھا ، اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا چونکہ حدود سے مقصود اصلاح ہوتی ہے قیاس سے ہر اصلاح کا حکم اس سے ثابت ہوگیا تو اصلاح میں کسی کی کیا رعایت ۔

(ملفوظ 472)مدارس میں تہذیب کی تعلیم نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر ایک بی ۔ اے آئے تھے انہوں نے اس قدر ستایا اور پریشان کیا جس کا کوئی حد وحساب نہیں پھر فرمایا کہ تہذیب جد فن ہے مدارس میں کتابوں کی تعلیم تو ہوتی ہے مگر تہذیب نہیں سکھلائی جاتی ۔

(ملفوظ 471)حکماء کی دو جماعتیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ تو ایسی باریک باتیں نہیں طبعی امور ہیں کوئی توجہ ہی نہ کرے اس کا کیا علاج ۔ حدیث شریف میں اس کے متعلق بھی تعلیم ہے کہ مریض کے پاس جا کردیر تک مت بیٹھو فلیخفف الجلوس تاکہ اس کوتنگی نہ ہو ۔ وہ ہرایک کی طرف پشت نہیں کرسکتا پیر پھیلا کر لیٹ نہیں سکتا خود مریض کے لئے بھی آداب ہیں ۔ فقہاء نے اس راز کو سمجھا ہے ان امور کو اسی طرح بیان کیا ہے اور شرح کی ہے کہ دوسرا نہیں کرسکتا ۔ اگر فقہاء نہ ہوتے تو دوسرے علماء کا قیامت تک بھی وہاں تک ذہن نہ پہنچتا بس حکما کی دو ہی جماعتیں ہیں ایک فقہاء اورایک محققین صوفیہ گو محدثین ان دونوں کی حکمت کی اساس ہیں کیونکہ روایات ہی تو سب حکمتوں کا ماخذ ہہں ۔

(ملفوظ 470) معافی غلطی کی عبارت خود کیوں نہیں لکھی :

ایک صاحب نے بذریعہ تحریر اپنی غلطی کی معافی چاہی دریافت فرمایا کہ ان سے پوچھئے کہ یہ عبارت کسی کی ہے عرض کیا کہ میں بنگلہ زبان جانتا ہوں اردو اچھی طرح نہیں آتی بہت کم کچی پکی آتی ہے فرمایا کہ اب یہ کیوں کراطمینان ہوکہ انہوں نے خود سمجھ کر دوسرے سے لکھوایا ہے ممکن ہے کاتب ہی کا تصرف ہو بس اصلاح اس طرح ہوتی ہے کہ اس پر بھی نظر کی گئی کہ عبارت ان کی ہے یا نہیں اس لئے یہ کام اصلاح کا بڑا مشکل ہے ۔

(ملفوظ 469) خلاف غیرت حرکت پر مواخذہ

ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ حرکت اصول کے بھی خلاف غیر کے بھی خلاف پھراگر میں سوال نہ کروں تو اس کے لئے بھی مضراور جہل میں اعانت کیا اپنے مقصود کو ظاہر کرنا طالب کے ذمہ نہیں یہ ہی تو وہ اصول ہیں کہ جن کی بدولت میں بدنام ہوں اور یہ سب کچھ بدنامی وغیرہ میں نے طریق کی غیرت کے لئے گوار کررکھا ہے تاکہ اس طریق کی شان محفوظ رہے کیونکہ ندنامی کے اندیشہ سے چاپلوسی کرنا اس کا اثر طریق پر پڑتا ہے کہ طریق کا استخفاف ہے جس کو میں ہرگز گوارا نہیں کرسکتا چاہے کسی کو اچھا معلوم ہوا یا برا کوئی بدنام کرے یا نیک نام اس بدنامی میں بھی ایک گونہ لذت معلوم ہوتی ہے ۔ کہ بد فہموں میں بدنامی ہو رہی ہے اور اس بدنامی کے متعلق تو میرا یہ مذہب ہے جس کو حافظ فرماتے ہیں
گرچہ بدنامی ست نزد عاقلاں مانمی خواہیم ننگ و نام را
( ظاہری عقل والوں کے نزدیک اگرچہ یہ باتیں بدنامی کی ہیں مگر ہم اس ظاہری نامور کے طالب ہی نہیں ۔ 12) ۔