(ملفوظ 468)شیخ الحدیث شیخ التفسیر وغیرہ القاب پسند نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر لوگ مولانا کہنے سے بڑے خوش ہوتے ہیں ہمارے بزرگ ایسے ایسے بٹے علامہ گزرے ہیں بہت سے بہت مولوی صاحب کا لقب ہوتا تھا مولانا بہت کم کسی کسی کے لئے اورادب تو اس قدر انقلاب ہوا کہ مولانا سے بڑھ کرکوئی شیخ الحدیث ہے کوئی شیخ التفسیر ہے مجھ کو تو یہ باتیں پسند نہیں ۔ سادگی میں لطف ہے وہ ان تکلفات میں کہاں ، ہمارا اکابر اپنے کو مٹائے ہوئے رکھتے تھے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہاں پرکوئی ہے یا نہیں زیادہ تر یہ معتقدین حضرت حضرت مولانا مولانا مزاج بگاڑ دیتے ہیں ، ایسے ہی تعظیم وتکریم کی نسبت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
نفس از بس مدحما فرعون شد کن ذلیل النفس ہونا لا تسد
( نفس زیادہ تعریفوں سے فرعون ہوگیا ہے کبھی کبھی اس کو ذلیل لرلیا کرو )
حقیقت یہ ہے کہ شہرت ہوجانا اور بڑا بن جانا اکثر دین کے لئے تومضر اور ضررساں ہے ہی دنیا میں بھی اس کی بدولت بہت سی آفات کا سامنا ہوتا ہے مولانا فرماتے ہیں
حشمہا و حشمہا و رشکہا بر سرت ریزد چو آب از مشکہا
( لوگوں کے غصے اور نگاہ تیرے سرپر اس طرح گریں گے جیسے مشک سے پانی گرتا ہے )

(ملفوظ 467)اتباع سنت اور حبرحب شیخ کی برکات :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اتباع سنت بڑی چیز ہے ۔ مجدد صاحب نے ایک کام کی بات بیان فرمائی کہ کسی شخص میں اگر دوچیزیں نہیں تو وہ بزعم خود کتنے ہی انوار میں محاط ہو وہ انوار نہیں ۔ اور یہ بھی جاننے کی بات ہے کہ اتباع سنت وہ ہے کہ بلا چون وچراہوں اس کے متعلق بھی مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ شرائع میں حکمت کا تلاش کرنا گویا یہ مراد ہے انکا ر کا اگر نبی کو نبی سمجھتا ہے تو پھر مصالح کے جاننے کا انتظار کیوں ہے مگرجب انتظار ہے تو یہ شخص اپنی عقل کا متبع ہوا نبی کا متبع نہ ہوا ۔ اور آج کل اس کو فلاسفی قراردے رکھا ہے فرمایا کہ جو برتا ؤ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرتے اورآُپ کی طرف سے غلام کو کیا جواب ہوگا تو گویا یہ شخص اپنے غلام کو تو غلام سمجھتا ہے اور اپنےا کو حضور کا غلام نہیں سمجھتا یہی فرق نکل سکتا ہے ۔

(ملفوظ 466)طلب مقصود ہے وصول مقصود نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ وصول مقصود نہیں طلب مقصود ہے اھ کیونکہ اول غیر اختیاری ہے ثانی اختیاری ہے۔

(ملفوظ 465)اکثر معلم کا طبقہ بیوقوف ہی ہوتا ہے

فرمایا کہ ایک معلم صاحب کا خط آیا ہے اکثر یہ طبقہ ہوتا ہی ہے وقوف میں سالہا سال سے تجربہ کررہا ہوں ایک صاحب نے عرض کیا کہ ایسے ہوجاتے ہیں یا اس سلسلہ تعلیم میں آتے ہی ایسے ہیں فرمایا کہ ہوجاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں تکبرپیدا ہوجاتا ہے ایک جماعت اطاعت گذرارں کی خدمت میں رہتی ہے یہ جو کرتے ہیں وہ بجا اور صحیح کہتے رہتے ہیں ان کا دماغ خراب ہوجاتا ہے ۔

(ملفوظ 464)رنج کا رفع کرنا اختیار نہیں:

فلاں مدرسہ کی سرپرستی کا ذکر فرماتے ہوئے کہ ایک ممبر صاحب نے جو مولوی صاحب بھی ہیں ۔ ایک دل خراش اور فضولیات سے پر تحریر میرے پاس بھیجی مجھ کو اس سے دور رنج ہوئے ایک تویہ کہ ایک دم اس قدر برا انقلاب ہوگیا یہ لوگ تو اپنے پرانے بزرگوں کے دیکھنے والے ہیں ۔ ان میں یہ نیا رنگ کہاں سے آگیا دوسرے یہ تہذیب بھی تو کوئی چیز ہے اور جن کی وہ تحریر ہے ان سے ہمیشہ کے تعلقات ہیں اس کے بعد وہ مولوی صاحب یہاں آئے اور معذرت اور معافی چاہی میں نے صاف کہہ دیا کہ اگر معافی چاہئے سے یہ مقصود ہے کہ انتقام نہ لیا جاوے نہ دنیا میں نہ آخرت میں تو معافی ہے اور اگر یہ مقصود ہے کہ رنج نہ رہے تو رنج تھا اور ہے اور رہے گا ، میں ناراض تھا اور ہوں اور رہوں گا مجھ کو کشیدگی تھی اور ہے اور رہے گی جب تک آپ کا یہ دعوٰی مجھ کو معلوم رہے گا کہ آُپ کو مجھ سے محبت ہے تعلق ہے جس روز یہ ختم ہوجائے گا یہ سب عوارض بھی ختم ہوجاویں گے شکایت اپنوں ہی سے ہوا کرتی اور ویسے تو بریلی کے خاں صاحب نے مجھ کو ساری عمر گالیاں دیں واللہ ذرہ برابر بھی کبھی اثر نہیں ہوا اور یہ جوآج کل رسم ہے معافی کی اس کی حقیقت صرف عدم مواخذہ ہے باقی اثر ضرور رہتا ہے ۔ حضرت وحشی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ساری عمر صورت نہ دکھلانا حضرت وحشی نے حالت کفر میں حضوصلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو قتل کیا تھا بعد میں اسلام لے آئے تھے تو کیا اسلام نے آنے پر معافی نہیں ہوگئی مگر حضوصلی اللہ علیہ وسلم کو رنج رہا اس سے بڑی بقاء اثر کی اورکیا دلیل ہوسکتی ہے بات یہ ہے کہ معافی تو اختیاری چیز ہے رنج کا رفع کرنا اختیارہ نہیں و صاحب جرم کے اختیار میں ہے کہ ایسے اسباب جمع کردے جس سے رنج جاتا رہے ۔

(ملفوظ 462)مجھے اپنے طریق اصلاح پر نازنہیں :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخزۃ فرماتے ہوئے اور جواب کے مطالبہ پربھی جواب نہ دینے پرفرمایا کہ اگر آپ جواب نہ دیں تو میرا کوئی ضرر نہیں نہ مجھ کو جواب کا انتظار ہے اسلئے کہ جواب میں میری کوئی غرض نہیں مصلحت نہیں اگر غرض ہے تو تہماری اگرمصلحت ہے تو تمہاری یہ بھی میرا تبرع اور احسان ہے کہ اپنے کاموں خرج کرکے تم کو وقت دیتا ہوں اورتم ہو کہ نواب کی طرح خاموش بیٹھے ہو نہ ہاں کچھ بھی نہیں ۔ اگر مصلح کو غلطی کا سبب معلوم ہوجائے تووہ غور کرلے کہ معقول ہے یا نہ معقول اور علاج قابل اصلاح ہوتو اصلاح کردے اورجب سبب ہی نہ معلوم ہوتو کس بات کی اصلاح کرے مگر مرض یہ ہوگیا ہے کہ اصل بات کو بلی کے گوہ کی طرح چھپاتے ہو تو کس بات کی اصلاح کیسے ہو ۔ شیخ اور بزرگ تو بیچارے کیا چیز ہیں اور کس شمار میں ہیں انبیاء علیہم السلام ایسے شخص کی نہ اصلاح فرما سکے چنانچہ ابوطالب اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہی واقعہ اس کی دلیل کے لئے کافی ہے آخرت وقت تک حضور نے کوشش فرمائی کہ ابوطالب کلمہ پڑھ لیں مگر جو نتیجہ ہوا اظہر من الشمس ہے تو اصلی شرط طلب ہے اور جب یہ نہ ہوتو اوپر اوپر باتیں بنانے سے اس طریق میں اصلاح کا کام نہیں چل سکتا جب تک سچی بات ظاہر نہ کرے ۔
سچی بات کو دل قبول کرلیتا ہے قرار پکڑجاتا ہے باقی کتنی ہی باتیں بنادے نہ دل قبول کرتا ہے اور نہ قرار پکڑتا ہے یہ دوسری بات ہے کہ مصلح کسی وقت یہ سمجھ کرکہ جب اس کو ہی اپنی اصلاح کا اہتما م نہیں اور فکر نہیں تو مرنے دوسسرے کو وہ تسامح اختیار کرلیتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہی ہے کہ جب تک اصلی بات نہ کہی جاوے اصلاح غیرممکن ہے ۔ حضرت یہ اصلاح کا پیشہ بھی بڑا ہی نازک ہے اور مجھ کو بھی اپنے طریق اصلاح پرناز نہیں اس لئے کہ میں بھی بشر ہوں علمی غلطی بھی ہوسکتی ہے عملی غلطی بھی ہوسکتی ہے کرتا میں ضرور ہوں اس کام کو مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں حق تعالٰی اسی طرح مجھ سے نہ مطالبہ فرمالیں مگر ان کے فضل پربیڑا ہے اور بھروسہ ہے میں آپ سے بقسم عرض کرتا ہوں کہ عین مواخذہ اور مطالبہ کے وقت مجھ کو یہ استحضار رہتا ہے کہ اس کی یہ باتیں اور یہ خود خدا کے نزدیک مقبول ہو اور اس استحضار رہتا ہے کہ اس کی یہ باتیں اور یہ خود خدا کے نزدیک مقبول ہو اور اس استحضاء کے سبب میرا یہ سب کہنا سننا تحقیر سے نہیں ہوتا محض اصلاح کی غرض سے ہوتا ہے ورنہ عقیدہ سے ہرطرح پر میں آنے والوں کو اپنے سے افضل سمجھتا ہوں اور یہ خیال کرتا ہوں کہ ممکن ہے کہ یہ ہی حضرات میری نجات کا ذریعہ بن جائیں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر پیر مرحوم ہوگا تو مرید کو جنت میں لے جائے گا ۔ تو مجھ کو سب آنے والوں سے یہی توقع ہوتی ہے مگر پھر بھی خدمت اصلاح کو ضروری سمجھتا ہوں اور اسی سے بد نام ہوتا ہوں مگر بجز جبر کے کیا ہوسکتا ہے ۔

(ملفوظ 461)فیشن ایبلوں میں عقل اور بیداری نہیں ہوتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جولوگ ہروقت مزین اور آراسہ رہتے ہیں اکثر ان میں عقل اوربیداری نہیں ہوتی کیونکہ ہوتی کیونکہ توجہ ایک ہی طرف ہوتی ہے یا جسم کو آراستہ کرلو یا قلب کو آراستہ کرلو ۔ صبح ایک دوست کو دیکھا کہ ہراکر تہ پہنے ہوئے طوطے بنے ہوئے ہیں ۔ تواب جوبات پوچھتا ہوں وہ گلہڑی طوطے کی طرح اڑنگ بڑنگ ہانکتے چلے جاتے ہیں میں نے محض ان علامات سے بدوں تحقیق کے ان پرکوئی الزام نہیں دیا بلکہ اول پوچھا پھر جواب کے لئے مہلت دی کہ سوچ کر جواب دو مگر گیا غرض جو سمجھ سے کام لیا ہو۔ اب دیکھ لیجئے میں نے کیا کیا اور انہوں نے کیا کیا میں نے یہی کہا کہ جواب کہ جواب دو تمہاری اس حرکت سے ایذاء ہوئی ہے مگر اس پربھی خبرے نباشد ۔
اب بتلایئے کہ اگر چشم پوشی کرتا ہوں اور بفضلہ تعالٰی کرسکتا ہوں اختیاری چیز ہے اور موخذاہ کے وقت الحمداللہ اضطراری حالت پیدا نہیں تمام مصا لح کی اس وقت بھی رعایت رکھتا ہوں غرض اگراختیار سے کام لوں اور چشم پوشی کرلوں تو اصلاح نہیں ہوسکتی اور اصلاح کرتا ہوں تو بدنامی ہوتی ہے مگر ہوا کرے بدنامی ایسی تیسی میں جائے ہم کیوں نہ کریں اصلاح ہمارے ذمہ ہے اصلاح ۔

(ملفوظ 460)حسن معاشرت جزو دین ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حسن معاشرت کو تو اچھے پڑھوں نے بھی دین کی فہرست ہی سے نکال دیا یہ باتیں دین ہی نہیں سمجھی جاتیں محض نمازروزہ چند عقیدوں کو دین سمجھا جاتا ہے آگے صفر۔ حالانکہ حدیث شریف میں صاف آیا ہے کہ اگر دو مسلمان قصدا پاس بیٹھے ہوں کے بیچ میں جاکر مت بیٹھو ممکن ہے کہ وہ قصدا پاس بیٹھے ہوں محبت کی وجہ سے سے یا کسی مصلحت کی وجہ سے تو ایسی ہلکی ہلکی باتوں کی جب نصوص میں تعلیم ہے اس سے اندازہ کرلیا جاوے کہ دین میں حسن معاشرت کی تعلیم ہے یا نہیں ۔

(ملفوظ 459)حکایت کبراورکم عقلی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معلم انگریزی اسکولوں کے ہوں یا اردو کے اکثر ان میں دوچیزیں جمع ہوتی ہیں کبر اورکم عقلی ایک حکایت ہے کسی نے نوکر سے بکری کی سری منگائی تھی وہ مغز خود کھاگیا آقا نے پوچھا مغز کیا ہوا دیکھنے لگا مدلم گوسفنداں بود ۔ ( یہ بکرا دوسرے بکروں کا معلم تھا ) ۔
ایک صاحب ہیں وہ تعلیم کا سلسلہ جاری کرنا چاہتے ہیں مگر اس قدر کم فہم واقع ہوئے ہیں کہ کوئی بات بھی تو ٹھکانے یا سمجھ کی نہیں میں جو لکھتا ہوں اس کا تو جواب ندارد اپنی ہی مرغ کی ایک ٹانگ ہانکے چلے جاتے ہیں ۔ فرمایا کہ مرغ کی ٹانگ یہ ایک مثل مشہور ہے اس کی بناء یہ ہے کہ کسی آقا نے باورچی کو حکم دیا کہ آج مرغ پکاؤ اس نے حکم کی تعلیم کی مگر جب دسترخوان پرکھانا گیا تو پلیٹ میں مرغ کی صرف ایک ٹانگ آقا نے مطالبہ کیا باورچی کہتا ہے کہ اس کی ایک ہی ٹانگ تھی آقا نے کہا کہ پاگل ہو کہیں ایک بھی ہوتی ہے اس نے پھراصرار کیا کہ اچھا کوئی مرغ ایک ٹانگ کا دکھلاؤ آقا نوکر کولے کرچلا اتفاق سے ایک مرغ ایک ٹانگ پر کھڑا تھا نوکر نے جوکہا کہ دیکھئے حضور ہے بھی اس کے ایک ہی ٹانگ ہے آقا نے اس مرغ کی طرف ہاتھ کرکے کہا کہ ہشت ،، مرغ دوسری ٹانگ بھی نکالدی اور بھاگ گیا۔ آقا نے کہا کہ دیکھ ! دوٹانگ ہیں یا نہیں تو باورچی کہتا ہے کہ آُپ نے وہاں ،، ہشت ،، کیوں نہیں فرمایا تھا وہاں بھی دوسری ٹانگ نکل آتی ۔

(ملفوظ 458)اختیاری کام کرنے کا امر ہے

فرمایا کہ ایک خدا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں نہ نماز پڑھتا ہوں نہ مجھ کو زکوۃ کا اہتمام ہے یہ تو دینی حالت ہے اور دنیوی حالت یہ ہے کہ تجارت نہیں چلتی اورجس کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں اس میں کامیابی نہیں ہوتی نہایت ادب سے خادم کی التجا ہے کہ آپ دل سے دعا فرماویں ۔ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ دل بہت خوش کررکھا ہے جودعاء کروں جوکرنے کے اختیاری کام ہیں وہ بھی نہیں کرتے اس پرایک قصہ یا د آیا کہ ایک شخص نے بمبئی میں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت دعا فرماویں کہ میں حج کر آؤں فرمایا کہ جس روز جہاز جانے کو ہوا اس روز تمام دن کے لئے مجھ کو تم اپنے اوپر پورا اختیار دیدینا ۔ عرض کیا کہ کیا ہوگا فرمایا یہ ہوگا کہ ٹکٹ خرید کر تمہارا پکڑ کر جہاز میں سوار کرادوں گا ۔ پھر میں دعاکروں گا وہ جہاز تم کو لے کر جدہ پہنچے گا اور پھر وہاں سے مکہ ضرور جائے گا اس طرح حج ہوجائے گا اور بدوں اس کے تو ساری عمر دعا کرتا رہوں گا اور تم ساری عمر تجارت کرتے رہو گے بس ہوچکاحج۔