ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والوں کے لئے مصلحت یہ ہے کہ پہلے خطوط سے آنے کی اجازت حاصل کر لیا کریں ۔ خصوص جبکہ عورتیں بھی ساتھ آنا چاہیں اور اول تو میں عورتوں کے آنے کو پسند ہی نہیں کرتا اس سے آگے کو راہ کھلتا ہے اس لئے میری رائے ہے کہ ایسے موقع پر بالکل خشک جواب دیا جاوے تاکہ راہ بند ہو ۔ سہارنپور سے دو عورتیں بلا اجازت و اطلاع کے آ گئیں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ آسیب کا خلل ہے اور بھی بعض بیماریوں کو بیان کیا ۔ میں نے کہا کہ بعض امراض کا تعلق تو طبیب سے ہے اور بعض کا عامل سے میں دونوں فن سے واقف نہیں تو آنا ہی بے کار ہو گیا اور میں اصل میں یہ چاہتا ہوں کہ تعویذ گنڈوں کی وجہ سے میرے پاس سفر کر کے کوئی نہ آوے اس سے مجھے سخت انقباض ہوتا ہے اگر یہ دروازہ کھلے تو عوام کا ہجوم ہو جاوے کیونکہ تعویذ گنڈوں کے معتقد دنیا میں بکثرت ہیں اور مجھ کو اس سے سخت انقباض ہوتا ہے ۔
میں نے ان عورتوں سے کئی بار یہ بھی دریافت کرایا کہ اس کے علاوہ اور کچھ کہنا ہے کہا کہ نہیں تو اس سفر کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور یہ سب بے اصول کام کرنے کے کرشمے ہیں روپیہ صرف کیا وقت صرف کیا سفر کی صعوبت اور پریشانی اٹھائی اور دوسرے کو پریشان کیا کیا اچھا ہوتا کہ چھ پیسے صرف کر کے ایک جوابی کارڈ کے ذریعہ معلوم کر لیتیں تو راحت ہی راحت تھی ۔
( ملفوظ 444 )کام کی کثرت سے نہ گھبرانا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کام کی کثرت سے بحمد اللہ میں کبھی نہیں گھبراتا ۔ ہاں آنے والے جو دق کرتے ہیں اور بے تکا برتاؤ کرتے ہیں اس سے گھبراتا ہوں باقی کام تو روزانہ ہی کثرت سے رہتا ہے آپ لوگ دیکھتے ہی ہیں خود ڈاک ہی کا یک مستقل کام ہے مگر خدا کے فضل سے روز کے روز پورا ہو جاتا ہے جس کی ایک وجہ مختصر جواب دینا بھی ہے پہلے میں بہت مبسوط جواب لکھتا تھا چنانچہ ایک مرتبہ جب میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھا ایک استفتاء جواب لکھنے کے لئے مجھ کو دیا گیا میں نے اس کا جواب لکھا اور نہایت طویل لکھا اور مولانا کے سامنے تصدیق کے لئے پیش کیا مولانا نے اس پر دستخط تو فرما دیئے مگر یہ ارشاد فرمایا کہ معلوم ہوتا کہ تم کو بہت فرصت ہے مگر جب کاغذوں کا انبار تمہارے سامنے ہو گا اس وقت دیکھیں گے کہ ایسے طویل جواب پھر بھی لکھو گے اب حضرت کا یہ مقولہ یاد آ جاتا ہے ۔
( ملفوظ 445 )اصلاح کا طریق زندہ ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصلاح کا طریق بالکل مردہ ہو چکا تھا اب
اللہ کا شکر ہے کہ اس میں دوبارہ روح پھونکی گئی ہے جس کو ناواقفی کی وجہ سے تشدد کہا جاتا ہے لیکن اس وقت طبائع میں کجی بڑھ جانے سے اسی طرز کی حاجت تھی اسی کی نسبت میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ اس چودھویں صدی میں ایسے ہی لٹھ پیر کی ضرورت تھی ۔ جیسا میں ہوں لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ مردے زندہ ہو جائیں اور نہ نفخ صور ہو نہ قیامت قائم ہو نہ میدان محشر ہو نہ میزان عدل ہو یعنی مقصود حاصل ہو جاوے اور کوئی بات ناگواری کی نہ ہو سو سنت اللہ میں یہ کیسے ممکن ہے اگر حسب خواہش نفس کے پیر ساری عمر طالب کی دلجوئی و خوشامد ہی کرتا رہے تو اصلاح کیسے ہو سکتی ہے ۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مقولہ امیر شاہ خان صاحب سے سنا ہے کہ جس کا پیر ٹرا نہ ہو اس مرید کی اصلاح نہ ہو گی عجیب شان تھی ۔ ان حضرات کی حضرت مولانا ہی کا دوسرا واقعہ اسی اصلاح کے متعلق امیر شاہ خاں صاحب ہی بیان کرتے تھے کہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ دہلی تھے خاں صاحب اور مولانا احمد حسن صاحب امروہوی ہمراہ تھے شب کو دونوں صاحبوں چارپائی مولانا سے ادب کے سبب ذرا دور کو بچھائیں خاں صاحب نے مولانا احمد حسن صاحب سے کہا کہ یہاں جو ایک برج والی مسجد ہے اس میں صبح کی نماز چل کر پڑھیں گے سنا ہے کہ وہاں کا امام بہت اچھا قرآن شریف پڑھتے ہیں مولوی صاحب نے کہا کہ ارے جاہل پٹھان ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ تو ہمارے مولانا کی تکفیر کرتا ہے مولانا نے سن لیا پکار کر فرمایا کہ احمد حسن تو اوروں کو جاہل بتاتا ہے اور خود جاہل ہے کیا قاسم کی تکفیر سے وہ امامت کے قابل نہیں رہا ۔ میں تو اس سے اس کی دینداری کا معتقد ہو گیا اس نے میری کوئی بات دین کے خلاف سنی ہو گی جس کی وجہ سے میری تکفیر لازم تھی اگر روایت غلط پہنچی تو راوی کی خطا ہے اب میں خود اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا مولانا نے صبح کی نماز اس کے پیچھے پڑھی ۔ اور ان دونوں کو ساتھ جانا پڑا تو دیکھئے مولانا احمد حسن صاحب کتنے محبوب تھے ۔ مگر اصلاح کے لئے ڈانٹ ان پر بھی پڑی ۔
28 شوال المکرم 1359 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 443 ) حضرت حاجی صاحب کی تمنا کا اثر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے کوئی اولاد نہیں ہوئی میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ورنہ مجھ کو تو بڑی الجھن ہوتی اس لئے کہ بچوں کی تربیت بڑی مشکل چیز ہے اور اگر ہو جاتی کیونکہ سب اللہ تعالی کے قبضہ میں ہے تو وہ اسے بھی اپنی رحمت سے آسان فرما دیتے ۔
ایک مرتبہ بڑے گھر میں خالہ نے جو ان کی حقیقی خالہ تھیں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اس باب میں عرض کیا تھا کہ اس کے لئے اولاد کی دعا فرما دیجئے ، حضرت نے مجھ سے فرمایا کہ تمہاری خالہ نے تمہارے لئے اولاد کی دعا کرنے کو مجھ سے کہا تھا خیر بھائی دعا سے کیا عذر ہے مگر جی تو یہ چاہتا ہے کہ جو میری حالت ہے وہی تمہاری حالت رہے یعنی اولاد نہ تو یہ حضرت کی تمنا کا بھی اثر ہے ۔
( ملفوظ 442 )ادھوری بات پر عتاب
ایک گاؤں کے آدمی نے تعویذ مانگا اور یہ نہیں کہا کس چیز کے لئے تعویذ کی ضرورت ہے اور بھی چند درخوستیں کیں وہ بھی ایسی ہی مبہم ۔ اس پر حضرت والا نے مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں ہی تمہارے رگ و ریشہ سے واقف ہوں خوب نبض پہچانتا ہوں ادھوری بات کہی جس کو کوئی سمجھ ہی نہ سکے چاہتے یہ ہیں کہ دوسرا آدمی ہمارا تابع رہے اور ہم کسی کے تابع نہ ہوں ۔
عرض کیا کہ قصور ہوا معاف کر دو فرمایا کہ معافی کو میں پھانسی تھوڑا ہی دے رہا ہوں مگر کیا غلطی پر متنبہ بھی نہ کروں اسی میں گیہوں اسی میں جو یہ بھی کوئی کھیتی سمجھ لی ہے کہ تعویذ بھی دیدو دعا بھی کر دو خیر اس کا بھی مضائقہ نہیں تھا مگر ساتھ ہی بندہ خدا دوسروں کے بکھیڑے بھی اسی طرح باندھ کر لایا ہے جیسے یہاں سے ایک پلے میں نمک اور ایک میں مرچ ایک میں ہلدی ایک میں تمباکو باندھ کر لے جائے گا یہ گاؤں والے ہوتے ہیں بڑے ہوشیار خبردار جو کبھی دوسروں کے بکھیڑے بھی لے کر آیا آج تعویذ نہیں ملے گا کل کو آ کر پوری بات کہنا اور اگر عقل نہ ہو تو یہاں کسی سے پوچھ لینا کہ پوری بات کس طرح ہوتی ہے پھر کبھی گڑبڑ کرے ۔
( ملفوظ 441 )مقلد ہونا آسان غیر مقلد ہونا مشکل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ غیر مقلد ہونا تو بہت آسان ہے البتہ مقلد ہونا مشکل ہے کیونکہ مقلدی میں تو یہ ہے کہ جو جی میں آیا کر لیا جسے چاہا بدعت کہہ دیا جسے چاہا سنت کہہ دیا کوئی معیار ہی نہیں مگر مقلد ایسا نہیں کر سکتا اس کو قدم قدم پر دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے بعضے آزاد غیر مقلدوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے سانڈ ہوتے ہیں اس کھیت میں منہ مارا نہ کوئی کھونٹا ہے نہ تھان ہے تو ان کا کیا ۔ اس کو تو کوئی کر لے غرض ایسے لوگوں میں خود رائی کا بڑا مرض ہے ۔
( ملفوظ 440 )ایک بزرگ کا یا فتاح سے مضمون کا شروع کرنا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے بزرگ کسی مضمون کے شروع کرنے سے قبل یا فتاح لکھتے تھے ۔ پہلے بزرگوں کی رسمیں بھی صالح ہوتی تھیں مگر اب تو نیچریت کا غلبہ ہوتا جاتا ہے ۔
( ملفوظ 438 )ذہانت کیفیات کو ضعیف کر دیتی ہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اکثر جس قدر کوئی شخص بھولا ہو گا اس پر کیفیات کا غلبہ زیادہ ہو گا اکثر یہ ذہانت و ذکاوت کیفیات کو ضعیف کر دیتی ہے اور راز اس میں یہ ہے کہ کیفیات کے لئے یکسوئی شرط عادی ہے اور ذہین آدمی کی ہر وقت یہ حالت رہتی ہے الم تر انھم فی کل واد یھیمون ( اے مخاطب کیا تم کو معلوم نہیں کہ وہ لوگ ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں ) البتہ یہ کیفیات لذیذ ہیں مگر ان کا درجہ ایسا ہے جیسے چٹنی کہ مزیدار ہے مگر تغذیہ کے لئے کافی نہیں ۔
27 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ
( ملفوظ 439 )اصلاح معاشرت کا بحران :
ایک نووارد صاحب نے جن کو اجازت دینے کے ساتھ یہ لکھ دیا گیا تھا کہ آتے ہی خط دکھلا دیں پھر بھی خط نہ دکھلایا حضرت والا نے ان سے مواخذہ فرمایا ان صاحب نے ایک صاحب کے واسطے سے معافی چاہی حضرت والا نے فرمایا کہ معافی تو اسی وقت ہو جاتی ہے مگر اس کا جو اثر ہوتا ہے وہ تو رہتا ہے اور اس کا ازالہ سلیقہ ہی سے ہو سکتا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں پھر سلیقہ کس طرح حاصل ہو سکتا ہے فرمایا کہ یہ تو مخاطبت مکاتبت پر موقوف نہیں ہر وقت کے اٹھنے بیٹھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کون بات پسند ہے کون ناپسند ۔
مگر آج کل اصلاح معاشرت کو دین کی فہرست ہی سے خارج کر رکھا ہے اس کی فکر ہی نہیں کہ ہماری اس حرکت سے دوسرے پر کیا اثر ہو گا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ یہ صاحب کم سنتے ہیں فرمایا کہ اگر ان میں اہتمام ہوتا تو اس کی بھی اطلاع کرتے کہ میں کم سنتا ہوں میں ان کو مشورہ دیتا کہ تم قریب بیٹھا کرو تا کہ میری باتیں سن سکو ۔ مگر جب اس قدر لاپرواہی ہے تو ایک شخص ہی کہاں تک ان جزئیات کا احاطہ کر سکتا ہے ۔
( ملفوظ 437 )اہل بدعت کے لچرز استدلالات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل بدعت کے استدلالات بھی نہایت ہی لچر ہوتے ہیں قبر پر چادر ڈالنے کے متعلق اس سے بعض علماء نے استدلال کیا تھا کہ جنازہ پر بھی تو چادر پڑتی ہے وہاں پر بھی مردہ یہاں پر بھی مردہ اگر قبر پر کپڑا پڑ گیا تو اس میں بدعت کیا ہے اسی طرح ایک شخص نے کہا تھا کہ پھولوں کے سہرے میں بدعت کی کون سی بات ہے کسی نے سیدھا کر کے سونگھ لیا ۔ اور کسی نے الٹا کر کے سونگھ لیا ۔

You must be logged in to post a comment.